سربجیت سے ملاقات کا مسئلہ: نوٹس جاری

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں بم دھماکوں کے الزام میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ سے ان کے وکیل کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر صوبائی ہوم سیکرٹری اور جیل حکام کو ستائیس اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے یہ حکم سربجیت کے پاکستانی وکیل اویس شیخ ایڈووکیٹ کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔
عدالت کے روبرو درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ وہ بھارت سے واپسی کے بعد اپنے مؤکل سربجیت سنگھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے تاکہ مقدمہ کے بارے میں ان سے بات چیت کی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ سربجیت سے ملاقات کے لیے وہ کوٹ لکھپت جیل گئے تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ ملاقات کے لیے ہوم سیکرٹری سے اجازت لیں۔
اویس شیخ ایڈووکیٹ کے بقول انہوں نے سربجیت سنگھ سے ملاقات کے لیے ہوم سیکرٹری کو درخواست دی جس پر ڈیڑہ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایاکہ جیل قوانین کے تحت کسی بھی وکیل کو یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ جیل میں اپنےمؤکل سے ملاقات کرسکے لیکن انہیں یہ قانونی حق استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔
سربجیت سنگھ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ اس ملاقات میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔

اس وقت سربجیت سنگھ نے اپنے وکیل اویس شیخ کے توسط سے رحم کی اپیل ایک صدر پاکستان کو دائر کر رکھی ہے جبکہ سپریم کورٹ کی طرف سے سزا کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی سپریم کورٹ میں دائر ہے۔
خیال رہے کہ اویس شیخ نے سربیجت سنگھ کی رہائی کے لیے رحم کی اپیل بھی دائر کررکھی ہے ۔ وکیل کا یہ بھی دعویْ ہے کہ ایک لاکھ بھارتی شہریوں نے سربجیت کی معافی کے لیے رحم کی اپیلیوں پر دستخط کیے ہیں اور یہ اپیلیں ان کے پاس ہیں جو وہ صدر آصف علی زرداری کو پیش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















