وزیرستان جنگ کے مقاصد کیا ہیں؟

جنوبی وزیرستان
،تصویر کا کیپشنخیال کیا جاتا ہے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے لیے زیادہ بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
    • مصنف, محمد الیاس خان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے مضبوط گڑھ میں طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کا سب سے اہم مقصد ملک میں شدت پسندانہ حملوں کی جڑ مارنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس علاقے میں سنیچر سے شروع ہونے والی بڑی کارروائی اب تک کیے جانے والے اقدام میں سنجیدہ ترین ہے اور اس کا ہدف شدت پسندوں کے تانے بانے کو تباہ کرنا ہے۔ یہ نتیجہ اس حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے نکالا جاتا ہے جو فوج نے اب تک اختیار کی ہے۔

اس سے پہلے کی جانے والی کارروائیوں کے برخلاف، جو قدرے نیم دلانہ، بے ترتیب اور لاحاصل رہیں، اس بار ایک بھر پور کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اس بڑی کارروائی سے قبل چار ماہ سے محسود علاقوں کا محاصرہ اس طرح سے جاری تھا کہ نقل مکانی کے لیے شہری آبادی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی اور شدت پسندوں کو نقل و حرکت کا موقع نہیں مل رہا تھا۔

اس وقت کو فوج نے محصور علاقوں کے ساتھ لگنے والے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں وزیر قبائل کے علاقوں میں موجود شدت پسندوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا تا کہ وہ محسود علاقوں میں کی جانے والی کارروائی سے الگ رہیں۔

اب فوج نے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں دو معین مقامات سے اس طرح پیش قدمی شروع کی ہے کہ شدت پسندوں کو دھکیل کر مکین لدھا میں سمٹنے پر مجبور کر دیا جائے اور وہاں ان سے حتمی جنگ لڑی جائے۔

اس دوران فوج یہ کوشش بھی کر رہی ہے کہ علاقے کے کڑے شدت پسندوں کو شورشیوں کے بڑے حصے سے کاٹ دیا جائے اور مزاحمتی قیادت کے لیے کام کرنے کے مواقع محدود کر دیے جائیں۔

اس حوالے سے فوج نے جو پالیسی بیان جاری کیا اس میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا اہم ترین ہدف وسطی ایشیا سے آنے والے ازبک اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں ہیں اور ایسے مقامی جنگجو جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیں گے فوج کے اہداف میں آخری ترجیح ہوں گے۔

جنوبی وزیرستان
،تصویر کا کیپشنجنوبی وزیرستان کا اکثر علاقہ آبی وسائل سے تہی، ویران اور درختوں سے خالی ہے۔

اس سلسلے میں فوج کے ترجمان اعلیٰ نے صحافیوں کو پیر کو مختصراً بتایا کہ علاقے میں کل آٹھ سے دس ہزار جنگجو ہیں جن میں سے ایک ہزار غیر ملکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام محسود یکساں طور پر متحرک نہیں ہیں بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو مجموعی طور پر موجود خوف کی فضا اور دھونس دھمکیوں کے باعث شدت پسندوں میں شامل ہوئے ہیں۔

اس پیغام کا واضح مقصد یہ ہے کہ جو جنگجو قدرے کم شدت پسند ہیں وہ کڑے شدت پسندوں کو چھوڑ جائیں۔

اس کے بعد کڑے شدت پسندوں کے پاس صرف دو رستے رہ جاتے ہیں ایک تو یہ کہ لڑتے لڑتے عبرت ناک انجام کو پہنچ جائیں اور دوسرا یہ کہ علاقے سے فرار ہو جائیں اور اپنے حصے کی لڑائی کو کسی اور دن پر ٹال دیں۔

فی الوقت تو شدت پسند فوجی پیش قدمی کے دونوں راستوں پر مورچہ بند ہیں۔

تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ لڑائی شدید ہو گی لیکن چند ایک یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کہیں بہتر بری فوج اور نپی تلی فضائی بمباری کے سامنے شدت پسند بہت عرصے تک ٹک نہیں پائیں گے۔

عام خیال ہے کہ سوات کے شدت پسندوں کی طرح بہت جلد محسود علاقوں کے شدت پسند بھی اپنے مورچے چھوڑ کر چھاپہ مار جنگ پر اتر آئیں گے۔

لیکن سوات اور مالاکنڈ کے دوسرے علاقوں کے برخلاف جنوبی وزیرستان کے شدت پسندوں کو اپنی جنگ ایک ایسے علاقے میں لڑنی ہے جو زیادہ ناسازگار ہے کیونکہ اس ایک تو پانی کم اور پھر جنگل کی پناہ بھی دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے غالب امکان یہ کہ غیر ملکیوں سمیت شدت پسندوں کی بڑی تعداد علاقے چھوڑ کر بھاگ جائے گی اور ان کے لیے آسان ترین یہ ہو گا کہ گومل پاس کے راستے بلوچستان کے وسیع تر ویرانے میں لاپتہ ہو جائیں۔

جنوبی وزیرستان
،تصویر کا کیپشنجاری آپریشن سے پہلے محصرہ کر کے مقامی شہریوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ نقل مکانی کر جائیں۔

اس کے علاوہ کچھ لکی اور بنوں کے طرف بھی فرار ہو سکتے ہیں جہاں سے وہ میر علی تک جا سکتے ہیں جہاں ایک عرصہ تک عرب جنگجوؤں کا ٹھکانہ رہا ہے یا پھر مزید جنوب کے طرف اورکزئی علاقے میں جا سکتے ہیں جہاں محسود شدت پسندوں کے اپنے ٹھکانے ہیں۔

کچھ مغربی مبصرین اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ اس علاقے میں موجود القاعدہ کے تربیت یافتہ بم ساز یہاں سے فرار ہو کر دنیا بھر میں موجود فی الحال غیر متحرک گروہوں شامل ہو کر مغرب میں حملوں کے لیے ان کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

جہاں تک پاکستانی فوج کا تعلق ہے تو اس کے لیے جنوبی وزیرستان میں کامیابی کے بعد اورکزئی و درہ آدم خیل میں آپریشن ناگزیر ہو جائے تا کہ شدت پسند جوابی کارروائی کے طور پر صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ نہ بنا سکیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر بلوچستان کی طرف فرار ہو جانے والوں سے کس طرح نمٹے گی اور شمالی وزیرستان کے حقانی نیٹ ورک اور اس سے وابستہ گروہوں کے بارے میں کیا ارادے رکھتی ہے۔

ایک عرصے سے دفاعی مبصرین کی رائے ہے کہ شمالی وزیرستان میں گل بہادر گروپ، جنوبی وزیرستان کے وزیر علاقے میں ملا نذیر اور بیت اللہ محسود گروپ جو اب حکیم اللہ گروپ بن چکا ہے القاعدہ کے حقانی نیٹ ورک ہی کا حصہ ہیں۔

حالیہ آپریشن محسود علاقے تک محدود ہے جو وسیع تر وزیرستان کا ایک چوتھائی ہے اور افغانستان کی سرحد سے قدرے دور ہے۔

ملا نذیر
،تصویر کا کیپشنملا نذیر کے گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جاری آپریش میں مداخلت نہیں کرے گا۔

افغانستان میں محسود جنگجوؤں کا کردار بہت محدود رہا ہے اور ان کی زیادہ توجہ پاکستان میں حملوں اور بم دھماکوں پر رہی ہے۔ ان کے برخلاف حقانی نیٹ ورک کے دوسرے گروپ فوج سے امن معاہدے کرتے رہے ہیں اور ان کی زیادہ توجہ افغانستان میں کارروائیوں پر ہی رہی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ان گروپوں نے اس بات سے آمادگی ظاہر کر دی ہے کہ وہ محسود طالبان کے خلاف جاری کارروائی میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔

لیکن کیا اس میں امریکیوں کی رضامندی بھی شامل ہو گی؟ بظاہر تو افغانستان میں موجود امریکیوں اور نیٹو افواج کے لیے حقانی نیٹ ورک کا مستقبل محسود طالبان کے مقدر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہو سکتا۔