بلوچستان سے دس’ایرانی اہلکار‘ گرفتار

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستانی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں دس سے زائد ایرانی اہلکاروں کوگرفتار کرلیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ یہ لوگ سکیورٹی اہلکار ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
کوئٹہ میں فرنٹئیر کور کے ذرائع نےگرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والوں سے تفتیش جاری ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ گرفتارہونے والوں کاتعلق پاسداران انقلاب ایران سے ہے یا نہیں۔
یہ گرفتاریاں پیر کے روز کوئٹہ سے پانچ سوکلومیٹردور پاک۔ایران سرحد کے قریب ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں کی گئیں۔ ماشکیل سے ایک مقامی صحافی محمد فاروق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد دن ایک بجے کے قریب دوگاڑیوں کے ذریعے سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں کئی کلومیٹر اندر تک آگئے تھے، جہاں انہیں فرنٹیئر کور کے جوانوں نے حراست میں لے لیا۔ محمد فاروق کے مطابق گرفتاری کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایرانیوں کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا۔
خیال رہے کہ آّٹھ روز قبل ایران کے صوبہ سیستان۔بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں کئی اعلی ایرانی فوجی عہدیداروں سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ایرانی افواج نے پاکستان سے ملحقہ سات سو کلومیٹر طویل سرحد بند کرکے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم جنداللہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔
سیستان حملے کے بعد ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی سمیت تنظیم کے کئی اہم رہنماء پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں لیکن پاکستان نے ا س دعوے کومسترد کردیا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کے وزیرِ داخلہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور صدر اور وزیراعظم سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں پاکستان نے ایران کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا تھا۔















