کوئٹہ: وزیر سپرد خاک، دس افراد گرفتار

فائل فوٹو، شفیق احمد خان
،تصویر کا کیپشنشفیق احمد خان کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تھا
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

صوبہ بلوچستان کے وزیر تعلیم شفیق احمد خان کی ہلاکت کے خلاف سوموار کو کوئٹہ میں شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی ہے۔ پولیس نے شہر کے مختلف مقامات سے دس سے زیادہ مشکوک افراد گرفتار کر لیا ہے۔

دوسری جانب صوبہ بلوچستان کے مقتول وزیر تعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں اُن کی آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا ہے۔

سوموار کو ان کی نمازِ جنازہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی، صوبائی کابینہ کے وزراء اور اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ اعلیٰ سرکاری حکام، سیاسی رہنماوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر سکیورٹی فورسز نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے۔

وزیر تعلیم شفیق احمد خان کو اتوار کے روز کوئٹہ میں ان کے گھر کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ بلوچ لبریشن یونائٹڈ فرنٹ نامی ایک شدت پسند تنظیم نے اس واقعےکی ذمہ داری قبول کی تھی۔ پولیس نے کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات سے دس سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب شفیق احمد خان کی ہلاکت کے خلاف انجمن تاجران بلوچستان کی اپیل پر کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی ادارے بدھ تک بند رہیں گے۔ صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی نے پیر سے صوبے بھر میں تین دن تک سوگ منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس سے قبل شفیق احمد خان کے قتل پر تبصرہ کرتے پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر اور سینیٹر نواب زادہ لشکری رئیسانی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ پاکستان میں امن وامان کو ٹھیک رکھنے کے لیے فوری طور پر افغان مہاجرین کو واپس اپنے ملک بھیجا جائے کیو نکہ افعان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان اور بالخصوص بلوچ دشمن لوگوں نے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھاہے۔

انہوں نے کہا کہ شفیق احمد خان کے قتل میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے کیونکہ شفیق احمد خان نے کہا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا اور افعانستان کے ایجنٹ ملوث ہیں۔ بقول لشکری رئیسانی شفیق احمد خان کو جن لوگوں نے قتل کیا ہے وہ بلوچستان کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ یہ وہ ایجنٹ ہیں جو بلوچستان میں گریٹ گیم کا حصہ ہیں۔