’دہشتگردی پر مشترکہ حکمتِ عملی ضروری‘

طیب اردگان
،تصویر کا کیپشنشدت پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رہےگا:طیب اردگان
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دہشتگرد پوری دنیا کے مشترکہ دشمن ہیں جن کا قلع قمع کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

پیر کے روز پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے پاکستان کا مستحکم ہونا بہت ضروری ہے۔

یہ گزشتہ بارہ سال کے دوران کسی بھی غیر ملکی سربراہ مملکت کا پاکستانی پارلیمنٹ سے یہ پہلا خطاب تھا۔

رجب طیب اردگان نے کہا کہ پاکستان اور ترکی دونوں کو دہشتگردی جیسے سنگین معاملات کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں میں تعاون ناگزیر ہے۔ ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک دہشتگردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

طیب اردگان نے اپنے خطاب کے دوران پاکستان اور ترکی کے درمیانی تجارتی حجم کو سالانہ دو ارب ڈالر تک پہنچانے کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے فرینڈز آف پاکستان میں شامل ملکوں سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے کیے جانے والے اعلانات پر فوری عملدرآمد کریں اور پاکستان کی امداد کریں تاکہ پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات سے نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ترکی کے لوگ کیسے بھول سکتے ہیں کہ ترک باشندے جب اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو برصغیر کی مسلمان عورتوں نے اپنے زیور تک اس جنگِ آزادی کی نذر کر دیے تھے‘۔ ترکی کے وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے دوران دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی فورسز کے درمیان مشترکہ مشقیں کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ترک ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات میں وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوطی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ 8 اکتوبر سنہ 2005 کو پاکستان میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد ترکی نے جس طرح پاکستان کی مدد کی اُسے پاکستانی قوم فراموش نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور موجودہ حکومت شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے حکومت اور سیکورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں مکمل حمایت کی ہے۔

طیب اردگان
،تصویر کا کیپشنطیب اردگان کو صدر آصف زرداری نے نشانِ پاکستان دیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے اور اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

اس سے قبل ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری نے ترکی کے وزیراعظم کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر اُن کی خدمات کے اعتراف میں نشان پاکستان دیا۔

رجب طیب اردگان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گیے تھے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو اپنے ساتھ ذاتی اور سکیورٹی سٹاف لانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ اپنی گاڑیاں پارلیمنٹ ہاؤس میں لا سکتے تھے۔ ارکان پارلیمنٹ کو اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے ایوان تک لانے کے لیے خصوصی شٹل سروس چلائی گئی تھی

میڈیا کے نمائندوں کو بھی اس خصوصی اجلاس کی کوریج کے لیے خصوصی پاس جاری کیے گئے تھے جبکہ شاہراہ دستور کو جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہے، عام آدمی کے لیے نوگو ایریا قرار دیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز کے سپرد تھی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سکیورٹی کے تمام تر انتظامات اسلام آباد پولیس کے ذمہ تھے۔