’طالبان کے اہم مراکز کی طرف پیش قدمی‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکار کوٹکی اور غور لمہ کی طرف سے طالبان کے اہم علاقوں میں داخل ہورہے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف دس روز سے جاری فوجی آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے اہم مراکز سراروغہ اور مکین سمیت تین علاقوں کی طرف پیش قدمی کردی ہے اور اس دوران اطلاعات ہیں کہ فوج کو بھرپور مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے گاؤں کوٹکئی پر قبضے کے بعد سکیورٹی فورسز نے اب طالبان کے سب سے اہم مراکز سمجھے جانے والے علاقوں سراروغہ، مکین اور کنی گورم کی جانب پیش قدمی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکار کوٹکئی اور غور لمہ کی طرف سے طالبان کے اہم علاقوں میں داخل ہورہے ہیں۔

ادھر پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی جھڑپوں میں انیس عسکریت پسند مارے گئے جبکہ چھ فوجی اہلکار ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے کوٹکئی گاؤں سے آگے کچ کئی کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔ فورسز نے غورلئی گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کو بھی کلیئر کردیا ہے اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں دس شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ اس جھڑپ میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چلویشتئی کے علاقے پر قبضے کے بعد اسے محفوظ بنادیا ہے اور وہاں سے آگے کی طرف سے پیش قدمی شروع کردی ہے جہاں راستے سے بارودی سرنگوں کو صاف کیا جارہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سروکہ کے مقام پر جھڑپوں میں سات شدت پسند مارے گئے جبکہ پانچ سپاہی بھی زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ رزمک سب ڈویژن کے قریب شرکئی، شگہ اور نواز کوٹ کے علاقوں کو بھی محفوظ بنادیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والی لڑائی میں دو شدت پسند اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ان کے مطابق اتوار کو قانون نافذ کرنے والے اداراوں نے تیررزہ ، بدر، چلویشتئی اور تور کونئی کے پہاڑوں پر قبضہ کیا تھا۔ یہ تمام مقامات محسود قبائل کے علاقے کے مغرب کی جانب واقع ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو پیش قدمی کے دوران بھر پور مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

خیال رہے کہ سراروغہ اور مکین جنوبی وزیرستان میں طالبان کے مضبوط گڑھ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کا تعلق بھی مکین سے بتایا جاتا ہے جبکہ سنہ 2007 میں سراروغہ کے مقام پر حکومت اور بیت اللہ گروپ کے طالبان کے مابین ایک امن معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

طالبان: صحافیوں کو دھمکی کی وضاحت:

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ تنظیم نے تمام صحافیوں کو دھمکیاں نہیں دی ہیں بلکہ صرف ان صحافیوں کو خبردار کیا گیا ہے جو مبینہ طورپر حکومت یا دیگر اداراوں کے دباؤ کے باعث طالبان کے موقف کو پیش نہیں کررہے ہیں۔

تنظیم کے نائب امیر مولوی فقیر محمد نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ صحافیوں کو چاہپیے کہ وہ حقیقت ظاہر کرے اور دوسروں کے ایجنڈ ے پر عمل پیرا نہ ہوں کیونکہ عوام بھی حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔