بلوچستان:گرفتار ایرانی اہلکاروں کی رہائی

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں گرفتار گیارہ ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
فرنٹیئر کور کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ان افراد نے غلطی سے سرحد پار کی تھی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’محافظوں کو ایرانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ غلطی سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے‘۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ افراد ’ سرحدی محافظ تھے جو سمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے نادانستہ طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے‘۔
خیال رہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیر کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو نے کے الزام میں گیارہ ایرانی اہلکاروں کوگرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں پیر کے روز کوئٹہ سے پانچ سوکلومیٹردور پاک۔ایران سرحد کے قریب ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں کی گئیں تھیں۔
ماشکیل سے ایک مقامی صحافی محمد فاروق نے بی بی سی اردو کے ایوب ترین کو بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے افراد پیر کو دن ایک بجے کے قریب دوگاڑیوں کے ذریعے سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں کئی کلومیٹر اندر تک آگئے تھے، جہاں انہیں فرنٹیئر کور کے جوانوں نے حراست میں لے لیا۔ محمد فاروق کے مطابق گرفتاری کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایرانیوں کو ماشکیل میں موجود ایف سی کیمپ متقل کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب آّٹھ روز قبل ایران کے صوبہ سیستان۔بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں کئی اعلی ایرانی فوجی عہدیداروں سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد ایرانی افواج نے پاکستان سے ملحقہ سات سو کلومیٹر طویل سرحد بند کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم جنداللہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔
سیستان حملے کے بعد ایرانی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی سمیت تنظیم کے کئی اہم رہنماء پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود ہیں لیکن پاکستان نے ا س دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کے وزیرِ داخلہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور صدر اور وزیراعظم سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں پاکستان نے ایران کی ہر ممکن مدد کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















