مہمند:چیک پوسٹ پر حملہ، آٹھ ہلاک

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چند حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا ہے
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چند حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں چھ شدت مارے گئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب صدر مقام غلنئی کے مغرب میں تقریباً پچاس کلومیٹر دور بیرزو سب ڈویژن کے حدود میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے بیدمنئی کے مقام پر قائم ہونے والی نئی سکیورٹی چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے وہاں موجود دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس میں چھ شدت مارے گئے جبکہ گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے چند حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

ادھر تحصیل صافی کے علاقے خزینہ میں بھی سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی کا ایک حصہ تباہ ہوگیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ایجنسی میں حکومت کی جانب سے طالبان گروپوں کے خلاف تاحال کسی باقاعدہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم محدود پیمانے پر کارروائی کا سلسلہ پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے۔اس کے علاوہ قبائلی لشکر نے بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی ضلع پشاور کے قریب واقع ہے جبکہ اس کی سرحدیں باجوڑ ایجنسی سے بھی متصل ہیں۔ مہمند یا باجوڑ ایجنسی میں جب بھی آپریشن شروع ہوتا ہے تو عسکریت پسندوں ایک دوسرے کے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔