’سٹریٹیجک‘ مذاکرات کا اعلان

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
امریکہ نے پاکستان کے ساتھ وسیع البنیاد ’سٹریٹیجک‘ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے، امریکی وزیرخارجہ کے مطابق نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔
پاکستان کے دورے پر آئی ہوئیں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک امریکہ سٹریٹیجک مذاکرات کی ’بحالی‘ کا باضابطہ اعلان کیا۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان چند برس قبل بھی اعلیٰ سطح پر ہونے والے مذاکرات کو پاکستان میں ’سٹریٹیجک‘ مذاکرات قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ ترین امریکی سفارتکار نے پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
’اپنے ملک کی طرف سے میں ذاتی طور پر ان مذاکرات میں شامل رہوں گی کیونکہ ہم ایسے جامع نوعیت کے مذاکرات چاہتے ہیں جو نتیجہ خیز بھی ہوں‘۔
انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات دہشت گردی کے خلاف جنگ تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دے گا اور اس مقصد کے لیے ملک بھر میں قائم بجلی گھروں کی استعداد بڑھانے کے لیے ان کی مرمت کی جائے گی۔
ہیلری کلنٹن نے بتایا کہ امریکہ زرعی مقاصد کے لیے پاکستان میں نصب دس ہزار ٹیوب ویلوں کی مرمت اور تبدیلی کا پروگرام بھی شروع کرے گا جس سے نا صرف توانائی کی بچت ہو گی بلکہ زراعت پر بھی اس کا مثبت اثر پڑے گا۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ نے تسلیم کیا کہ افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب تعینات امریکی افواج کی چیک پوسٹوں کے مقام میں گزشتہ چند روز کے دوران تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
’لیکن یہ تبدیلیاں اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ہم پاکستانی سرحد کے ساتھ اپنی پوزیشنز مزید مستحکم کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کی دفاعی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔ ’
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ پاکستانی فوج کی مشاورت کے ساتھ ان فوجی پوسٹ کے معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پاکستانی فوج کو مدد فراہم کی جا سکے۔
اس موقع پر امریکی وزیر نے سوات اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے پر پاکستانی فوج کی تعریف کی۔
’ہم پاکستانی فوج کی بہادری کے قائل ہیں اور پاکستان کو یقیقن دلانا چاہتے ہیں کہ اس مشترکہ دشمن کے خاتمے کے لیے ہم ان فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔’
شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ آمد پر ہیلری کلنٹن کے لیے استقبالی کلمات کہے اور کہا کہ امریکی وزیرخارجہ ایک ایسے وقت میں پاکستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہاں آئی ہیں جب پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔



















