پاکستان میں القاعدہ ’ٹھکانوں‘ پر ہیلری کی برہمی

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان کی طرف سے اعلیٰ القاعدہ قیادت کی گرفتاری میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
لاہور میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں کر سکتیں کہ حکومت میں کوئی بھی یہ نہ جانتا ہو کہ سینیئر القاعدہ رہنما کہاں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے امریکی امدادی پیکیج کی مخالفت کو بھی چیلنج کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکسیشن سسٹم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہیلری کلنٹن اب مشرق وسطیٰ جائیں گی جہاں وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔
لاہور میں اخبار نویسوں کے ساتھ انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے اور یہ کہ دیگر قومیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات کیوں نہیں اٹھا سکتیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کو ان لوگوں کی گرفتاری اور ہلاکت میں دلچسپی ہے جو دہشتگردوں کے گروہ کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کی معلومات ہیں وہ لوگ پاکستان میں ہیں۔
’سنہ دو ہزار دو سے القاعدہ کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ مجھے اس بات پر یقین نہیں آ رہا کہ آپ کی حکومت میں کوئی بھی یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کہاں ہیں اور حقیقی معنوں میں کوشش کی جائے تو وہ گرفتار نہ ہو سکیں۔ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ ہو سکتا ہے ان کو گرفتار کرنا ممکن نہ ہو۔ مجھے نہیں معلوم۔‘
اس موقع پر موجود پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسی طرح کی بات کی ہے جس طرح کی بات صدر اوباما کی انتظامیہ پاکستان حکام کو پرائیویٹ طور پر کہتی رہتی ہے۔ ’ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہاں ان رہنماؤں کی تلاش پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی امداد کے لیے امریکی پارلیمان میں پاس کیے گئے بِل کی تنقید پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی شہری سہولتوں اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر اندرونی ذرائع سے بھی سرمایہ کاری کرنا چاہیے۔ ’پاکستان میں جی ڈی پی پر ٹیکسوں کی شرح دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔ ہم (امریکہ میں) ہر اس چیز پر ٹیکس لگاتے ہیں جو فروخت ہوتی ہے یا فروخت نہیں ہوتی اور جو کچھ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں وہ ایسا نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ کی آبادی بڑھ کر تیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے آپ کیا کریں گے، اگر آپ اس کی منصوبہ بندی آج سے شروع نہ کریں۔‘
اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اپنے خطاب اور حاضرین اور سامعین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ انڈیا کو پاکستان پر ترجیح دیتا ہےاس کے دونوں سے تعلقات ہیں لیکن امریکہ کی یہ خواہش ضرور ہے کہ دونوں ممالک اپنے طور پر باہمی تنازعات حل کرلیں۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی طور پر اہم مقام پر واقع ہے اور اگر بھارت سے تعلقات بہتر کرلے اور ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ اس کے تمام اطراف سے تجارت کھل جائے تو اس کی اقتصادیات راکٹ کی تیزی سے ترقی کر جائے گی۔ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے یک طرفہ تعلقات نہیں چاہتا بلکہ دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کی بات کو سننا ہوگی۔ امریکہ اور پاکستان دونوں کو شدت پسندی اقتصادی تنزلی سمیت ایک ہی طرح کے برابر کے خطرات لاحق ہیں اور ان سے دونوں کو مل کر نبرد آزما ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اوباما اور خود وہ پاکستان کے عوام سے براہ راست رابطے کے خواہشمند ہیں البتہ دونوں ملکوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو آپس کے دوستانہ تعلقات کے خلاف ہیں۔ امریکہ اور پاکستان میں لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف کہانیاں سن رکھی ہیں جو جھوٹی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی اقلیت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دو قوموں کے درمیان تعلقات کا فیصلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل پاکستان سے تعلقات نبھانے کا ایک طویل المدت عہد ہے۔ اس بل کے تحت عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے امداد دی جائے گی اور اس کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل سے نہ تو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی ’مائیکرو مینجمنٹ‘ کی جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ ان باتوں کی وضاحت کرنے میں ان کی جانب سے کوتاہی ہوئی ہے اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اب ماضی کی طرح پاکستان کو نہیں چھوڑیں گے اور تعلقات نبھائیں گے اور ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔
امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق صدر اوباما افغان پالیسی پر نظر ثانی کررہے ہیں وہ پاکستان کے سرحدی تحفظات سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہیں مدنظر رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا فیصلہ ہوتے ہی اسے فوری نافذ کردیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت خود کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج، پولیس اورانتظامیہ کے دفاتر، تعلیمی ادارے اور کرکٹ ٹیم سمیت کوئی بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا۔’غیرملکی درانداز پاکستانیوں کے طرز زندگی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں علاقے پر قبضے کی کوشش کی گئی اور حکومت کی رٹ کو محدود کیا گیا۔ اسے کوئی بھی قوم خاص طور پر آزادی اور خود مختاری کے نام پر وجود میں آنے والا ملک پاکستان کیسے برداشت کرسکتا ہے‘۔
انہوں نے کہا پاکستانی حکومت اور فوج صحیح سمت پر ہے اور امریکہ ان کی حمایت کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے بقول یہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہرصورت جیتنا ہوگی۔



















