’207 شدت پسند ہلاک‘

وزیرستان
،تصویر کا کیپشنکوٹکئی کے بعد صحافیوں کو شرونگئی کا دورہ کرایا گیا
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، کوٹکئی، جنوبی وزیرستان
  • وقت اشاعت

فوجی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو ہفتوں کی کارروائی کے دوران اب تک 207 شدت پسندوں کو ہلاک کیاگیا ہے جبکہ اس دوران 26 کے قریب فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

یہ بات جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے ذمہ دار افسران نے پشاور اور اسلام آباد کے صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ کے دوران بتائی۔

پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے کرنل ندیم کی سربراہی میں صحافیوں کے اس گروپ کو پہلے طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں کوٹکئی لے جایا گیا جہاں پر آپریشن کے ایریا انچارج بریگیڈیئر شفیق نے بریفنگ دی۔

بریگیڈیئر شفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو ہفتوں کے دوران بارہ کلومیٹر کا علاقہ طالبان سے واپس لے لیا ہے۔ ان کے مطابق سب زیادہ مزاحمت کا سامنا کوٹکئی میں ہوا جو طالبان کے سربراہ کا آبائی گاؤں ہے اور یہی وجہ ہے کہ طالبان اس علاقے کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں ایک سو پچیس طالبان کو ہلاک کردیا گیا اور فوج کے سولہ جوان ہلاک ہوگئے تاہم طالبان کی ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس کے بعد صحافیوں کو شرونگئی کا دورہ کرایا گیا جس کی سرحد وزیر قبیلے کےشکئی کے علاقے سے جاکر ملتی ہے۔ یہاں پر بریفنگ کے دوران آپریشن انچارج بریگیڈیئر احسان اللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس علاقے میں غیر ملکی بڑی تعداد میں موجود تھے جن کی تعداد انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق آٹھ سو سے ایک ہزار کے درمیان تھی۔

ان کے مطابق جھڑپوں کے دوران بیاسی مبینہ عسکریت کو ہلاک کردیا گیا تاہم ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف دو ازبک جنگجوؤں کی لاشیں قبضے میں لی تھیں۔ ان کے بقول فوج کے قبضے کے بعد زیادہ تر مبینہ عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔