اقوام متحدہ کا غیرملکی عملہ ’واپس‘

گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے دفتر پر خود کش حملہ بھی ہوا تھا
،تصویر کا کیپشنگزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے دفتر پر خود کش حملہ بھی ہوا تھا
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ سرحد اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اپنے غیر ملکی عملے کو ان علاقوں سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق متعلقہ علاقوں میں چوتھے درجے (ایمرجنسی آپریشن) کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی عملے کو دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کیا ہے اور یہ بیان ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب مسٹر بان کی مون پیر کو افغانستان پہنچے ہیں۔

تاہم بیان میں بتایا گیا ہے کہ انسانی امداد، سکیورٹی اور ایمرجنسی کے علاوہ دیگر ایسے کام جس کے لیے سیکرٹری جنرل ضروری سمجھیں وہ عملہ بدستور متعلقہ علاقوں میں کام جاری رکھیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا ’انٹریشنل سٹاف‘ صوبہ سرحد اور فاٹا کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی تیاری اور منصوبہ بندی کا کام جاری رکھیں گے تاکہ جیسے ہی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو تو وہ فوری کام کا آغاز کر سکیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں اپنے عملے کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کی مدد جاری رکھے گا اور جہاں ضرری ہوا وہاں امداد فراہم کی جائے گی۔ تاہم سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے عملے کی حفاظت بھی ان کی ذمہ داری ہے اور صرف رواں سال میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقوام متحدہ کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔