’احتساب کا شفاف بل لانا چاہتے ہیں‘

فائل فوٹو، قومی اسمبلی
،تصویر کا کیپشنیوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت میثاقِ جمہوریت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتساب کا بل لانا چاہتی ہے جس پر بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے دستخط کیے تھے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کی مشاورت سے احتساب کا ایک ایسا بل ایوان میں لانا چاہتی ہے جس کے شفاف ہونے کے بارے میں کو شک نہ رہے۔

جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے نکتۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب کا ایک ایسا بل ایوان میں پیش کرنا چاہتی ہے جس سے موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ آنے والی حکومتیں بھی فائدہ اُٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب اور امتیاز میں بہت تھوڑا فرق ہوتا ہے اور حکومت اس فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے احتساب کا بل لانا چاہتی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت میثاقِ جمہوریت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتساب کا بل لانا چاہتی ہے جس پر بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے دستخط کیے تھے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت قومی مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ اُٹھانے والوں کے ناموں کی فہرست جلد ہی ایوان میں پیش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن عدالتوں میں اپنے مقدمات کا دفاع کریں گے اور اس ضمن میں عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اُنہیں قبول کریں گے۔

اس سے پہلے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اگر حکومت این آر او کو دفن کرنا چاہتی ہے تو احتساب کا شفاف ادارہ بنائے۔

انہوں نےگلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ان انتخابات میں حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتحابات میں دھاندلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے قائد حزب اختلاف سے کہا کہ اگر اُن کے پاس یا کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ان انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت ہیں تو وہ ایوان میں پیش کرے حکومت اس پر کارروائی کرے گی۔