سماجی رہنما کے قتل کے خلاف احتجاج

کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرین
،تصویر کا کیپشنکراچی پریس کلب کے سامنے سندھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی کے ایک بڑے پبلک پارک گٹر باغیچہ پر مبینہ قبضہ کے خلاف مہم چلانے والے سماجی رہنما نثار بلوچ کے قتل کے خلاف سنیچر کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

یہ احتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب کے سامنے سندھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔ سندھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سٹی حکومت سے وابستہ اہلکاروں کو اس کیس میں شامل تفتیش کیا جائے۔

مظاہرے میں سندھی اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی جبکہ مختلف سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی مظاہرے میں شرکت کی جن میں خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں مختلف جماعتوں کے پرچم اور ایسے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر نثار بلوچ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مظاہرین سے نادر بلوچ، خالق جونیجو،گلزار سومرو اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ نثار بلوچ کو شہر کے سب سے بڑے پبلک پارک گٹر باغیچہ پر ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے ان قوتوں نے ہلاک کیا ہے جو پورے شہر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

مظاہرین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ نثار بلوچ کے قتل کی تحقیقیات کروائی جائے اور سٹی حکومت کے اہلکاروں کو شامل تفتیش کیا جائے۔

سماجی رہنماء نثار بلوچ کراچی میں غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کے صدر اور شہری تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔ انہوں نے شہر کے سب سے بڑے اور چار سو اسی ایکڑ پر محیط پبلک پارک گٹر باغیچہ پر ناجائز قبضے کے خلاف برسوں سے ایک مہم چلا رکھی تھی اور ان کی مہم کی وجہ سے عدالت نے گٹر باغیچہ کے اندر تعمیراتی کام روکنے کا حکم دیا تھا۔

گٹر باغیچہ کی حدود کے اندر سٹی حکومت نے اپنے افسران کے لیے ایک رہائشی کالونی تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر نثار بلوچ اور دیگر کا کہنا تھا کہ شہر میں پہلے ہی پبلک پارک کم ہیں اس لیے ایک اور پارک کو ختم نہ کیا جائے۔

نثار بلوچ کو گزشتہ ہفتے پاک کالونی کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین مسلح افراد نے نثار بلوچ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔

نثار بلوچ بنیادی طور پر ایک پرائمری ٹیچر تھے مگر انہوں نے فلاحی کاموں میں مصروفیت کے بعد نوکری سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے شہر کی غریب اور بلوچ آبادیوں میں مفت تعلیم کے لیے سکول کھول رکھے تھے اور علاقے میں ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک تھے۔