زرداری کیخلاف درخواستیں نمٹا دی گئیں

صدر زرداری کے خلاف اثاثہ جات کا یہ مقدمہ قومی مصالحتی آرڈنینس کے تحت ختم ہوچکا ہے: وکیل
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری کے خلاف اثاثہ جات کا یہ مقدمہ قومی مصالحتی آرڈنینس کے تحت ختم ہوچکا ہے: وکیل
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے اثاثہ جات ریفرنس میں صدر آصف علی زردرای کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی درخواست واپس لینے پر اس کیس کو نمٹا دیا جبکہ سابق سیکرٹری عالم بلوچ کے قتل کے مقدمے میں یہ مقدمہ عام عدالت میں منتقل کیے جانے کے فیصلے کےخلاف دائر درخواست سندھ حکومت نے واپس لے لی۔

یہ درخواست 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بینچ کی طرف سے آصف علی زرداری کے ملکی اور غیر ملکی اثاثوں کی فروخت، منتقلی یا اسے بطور بینک گارنٹی استعمال کرنے کے خلاف جاری کیے جانے والے حکم نامے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے روز اس درخواست کی سماعت شروع کی تو صدر آصف علی زرداری کے وکیل ابوبکر زردرای نے عدالت میں درخواست دی کہ چونکہ اُن کے مؤکل کے خلاف اثاثہ جات کا یہ مقدمہ قومی مصالحتی آرڈنینس کے تحت ختم ہوچکا ہے اس لیے اب یہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے اس لیے اُن کے مؤکل (آصف علی زرداری) اس درخواست کو واپس لینے کے حق میں ہیں۔

عدالت نے درخواست گُزار کے وکیل کی استدعا پر یہ کیس نمٹا دیا۔ واضح رہے کہ اس درخواست کی آخری مرتبہ سماعت سنہ دو ہزار چار میں ہوئی تھی۔

نیب کے ریکارڈ کے مطابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جو مقدمات این آر او کے تحت ختم ہوئے تھے اُن میں اثاثہ جات کا مقدمہ بھی شامل تھا اور یہ تمام مقدمات پانچ مارچ سنہ دوہزار آٹھ میں ختم ہوئے تھے۔

سابق سیکرٹی عالم بلوچ کے قتل کے مقدمے میں سندھ کے پراسکیوٹر جنرل شہادت اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ چونکہ قتل کے اس مقدمے میں بری ہوچکے ہیں اس لیے یہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے اور اس سندھ حکومت اس درخواست کو واپس لیتی ہے۔ جس پر عدالت نے اس کو نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ سابق سیکرٹری عالم بلوچ کے قتل کا مقدمہ آصف علی زرداری کے خلاف درج کیا گیا تھا اور اس مقدمے کی سماعت حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا جس کے خلاف صدر زرداری کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے 1999 کو اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس مقدمے کو سیشن جج کی عدالت میں بھجوا دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی شامل تھے۔ این آر کو تحت جب صدر آصف علی زردرای کے خلاف تمام مقدمات مختلف عدالتوں میں ختم ہوئے تو اُس وقت عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد صدر آصف علی زرداری کے وکیل اعتزاز احسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور گورنر کے خلاف اُس وقت تک فوجداری مقدمات کی سماعت شروع نہیں ہوسکتی جب تک وہ صدر یا گورنر کے عہدے پر فائز ہیں تاہم ان عہدوں سے علیحدہ ہونے کے بعد اُن کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عہدوں کو آئین کی دفعہ دو سو اڑتالیس کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین سے غداری بد عنوانی سے بھی بڑا جُرم ہے اور آئین سے غداری کرنے والے کسی شخص کو معاف نہیں کیا جانا چاہیے چاہے آئین سے غداری کرنے والا ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف ہی کیوں نہ ہو۔