کیا یہ جنوبی وزیرستان کا آخری معرکہ ہے؟

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لدھا، جنوبی وزیرستان
- وقت اشاعت
’آپ تو دوسری جانب سے جاتے رہے ہیں قبائلی علاقے، یہ آج فوج کے ساتھ کیسے آنا ہوا؟‘ یہ سوال فوجی میزبان نے ہیلی پیڈ پر صبح سات بجے پہنچنے پر کیا۔ جواب کیا دیتا دل میں سوچا کہ یہ تو اہمیت کی بات ہے۔ کون آپ کو کتنا اہم سمجھتا ہے۔
دو ہزار تین میں اس وقت کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل علی جان اورکزئی نے یہ سہولت مہیا کی تھی اور اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بعض قبائلی علاقوں کا دورہ کروایا تھا۔ اس وقت وہ قبائلیوں سے فوج کی تعیناتی پر بات کرنے گئے تھے اور اب تقریباً چھ برس بعد فوج کو دوبارہ یاد آیا تو کھوئے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کے بعد انہیں دکھانے کے لیے لے گئی۔
قبائلی علاقوں میں حالات کس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اس کا اندازہ جنوبی وزیرستان میں محسود طالبان کے اہم گڑھ سراروغہ اور لدھا پہنچنے پر ہوا۔ پہلی مرتبہ فروری دو ہزار پانچ کی یخ پستہ ہواؤں کے درمیان یہاں حکومت اور بیت اللہ محسود کے درمیان ایک امن معاہدے پر دستخطوں کی تقریب دیکھنے آیا تھا۔ بیت اللہ محسود ایک طویل لڑائی کے بعد حکومت سے امن معاہدے پر رضامند ہوئے تھے۔ اُس تقریب میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی موجود نہیں تھا۔
شدت پسندوں کی سکیورٹی فورسز سے مخاصمت کافی پرانی ہے۔ وہ انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اسی لیے گزشتہ برس شدت پسندوں نے ایک ایک کر کے تمام سکیورٹی چوکیاں اور انگریزوں کے بنائے ہوئے قدیم قلعے تباہ کر دیے تھے۔ اس کی وجہ بڑے فخر سے انہوں نے یہ بتائی تھی کہ اس تباہی کے بعد سکیورٹی فورسز واپس نہیں لوٹ سکیں گی۔ انہیں امید تھی کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز کو ہمیشہ کے لیے وہاں سے نکال دیا ہے اور اب وہ واپس نہیں آسکیں گی۔

لیکن تقریباً ڈیڑھ برس بعد حالات اس نہج تک آن پہنچے کہ انہیں بالآخر سکیورٹی فورسز نے یہاں سے زبردستی بےدخل کر دیا۔ آج یہاں کی تصویر یکسر بدلی ہوئی ہے۔ کوئی طالب، کوئی شدت پسند دکھائی نہیں دے رہا۔ عام قبائلی تو پہلے ہی بمباری کے دوران یہاں سے محفوظ علاقوں کی جانب نکل چکے تھے۔ صرف فوجی ہی دکھائی دیتے ہیں اور کوئی نہیں۔ سڑکیں اور قصبے سنسان ہیں۔ زندگی کی کوئی رمک محسوس نہیں ہوتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی آسیب زدہ علاقے میں کھڑے ہوں۔
سوات میں جیسے نقل مکانی کرنے والوں نے مال مویشی کی دیکھ بھال کے لیے ایک مرد پیچھے چھوڑ دیا تھا یہاں ویسی کوئی صورت نہیں تھی۔ فوج نے پمفلٹس اور اعلانات کے ذریعے سب سے کہا کہ نکل جاؤ کیونکہ جو پیچھے رہ گیا وہ شدت پسند مانتے ہوئے ہلاک کیا جائے گا۔
جیسے ہی ریڈیو پر دورے کے بارے میں میرا انٹرویو چلا سراروغہ کے کئی رہائشیوں نے فون پر اپنے گھر بار کی حالت معلوم کرنے کے لیے فون کیا۔ ان کا پوچھنا تھا کہ کیا سکیورٹی فورسز نے ان کے مکانات زمین بوس تو نہیں کیے؟ بتایا کہ ہمیں مکانات کی جانب لے جایا ہی نہیں گیا تو نہیں معلوم کہ وہ کس حال میں ہیں۔
لیکن کوئی بھی سرکاری عمارت شاید ہی ایسی تھی جس پر جنگ کے آثار نمایاں نہ تھے۔ دیواروں میں بڑے بڑے شگاف یہاں ہونے والی لڑائی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ سراروغہ کا تقریباً سو دکانوں کا بازار بھی تباہ ہوچکا ہے۔ دکانیں خالی تھیں اور ہمیں بتایا گیا کہ جاتے وقت لوگ اپنا تمام سامان ساتھ لے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام شہری تو اپنا سامان لے گئے، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ فرار ہونے والے شدت پسند اپنا جنگی سازوسامان بھاری تعداد میں وہیں چھوڑ گئے۔ ایک سرکاری سکول میں قبضے میں لیا گیا یہ سامان میڈیا کو دکھایا گیا۔ اس میں کیا نہیں تھا۔ زنگ آلود اینٹی ائر کرافٹ بندوقیں اور بوبی ٹریپس ایسے ایسے کہ حیران کر دیں۔ کمپیوٹر اور سی ڈی پلیئرز میں بھی انتہائی مہارت سے بم نصب کیے گئے تھے تاکہ انہیں آن کرنے والے کی آخری فلم چل جائے۔

وہیں ایک کمرے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی خط و کتابت کے چند نمونے بھی تجسس سے بھرے صحافیوں کے ہاتھ لگے۔ میرے ہاتھ حلقہ وچہ خوڑہ کے امیر مولوی اکرام اللہ حقانی کے لیٹر پیڈ پر مولوی رضوان اللہ اینڈ خیالی صاحبان کے نام لکھا ایک پیغام ملا جس میں ان سے حاملہ رقعہ کو دو عدد ’مشینیں’ دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ قبائلی کلاشنکوف کے لیے مشین کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
اسی مکتوب کی پشت پر ’قوم درے محسود کے لیے باہمی تنازعات و معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے وضع کردہ اصول و ضوابط‘ اردو میں درج تھے۔ دوسرے نمبر پر درج دلچسپ شرط فریقین کے لیے ’مجاہدین پر مکمل اور غیرمتزلزل اعتماد رکھنا‘ تھی۔ ان اصولوں سے انحراف کی صورت میں حاصل شدہ ضمانت ضبط کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔
صحافیوں کی چائے، پکوڑوں اور جلیبیوں سے تواضع کرنے کے بعد انہیں لدھا کے لیے ہیلی کاپٹروں پر دوبارہ بٹھایا گیا۔ لدھا سراروغہ سے زیادہ سرسبز اور اونچائی پر واقع اہم علاقہ ہے۔ یہاں اپنے کیمروں اور دیگر سامان کے ساتھ لدے بھرے صحافیوں کو ایک پہاڑی چوٹی پر پیدل چڑھایا گیا جس سے جلیبیاں کھلانے کی وجہ عیاں ہوئی۔
یہاں بھی فرنٹیئر کور کے جوانوں نے بغیر کسی مدد کے چھ ہفتوں تک شدت پسندوں کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ ان سپاہیوں کا کیا ہوا اس کا اندازہ اس قلعے کے کھنڈرات دیکھ کر باآسانی ہو جاتا ہے۔ یہی علاقہ ہے جہاں ابھی بھی سکیورٹی فورسز کو مزاحمت کا سامنا ہے۔
یہاں ملنے والا اسلحہ اور لٹریچر ناصرف اپنی مقدار بلکہ نوعیت کی وجہ سے بھی حیران کن تھا۔ عربی اور اردو زبان کے علاوہ ایک انگریزی زبان میں کسی شدت پسند کی ڈائری بھی ملی جس میں اس نے انتہائی مہارت کے ساتھ تیسری جنگ عظیم کے امکانات پر رائے زنی کی تھی۔ وہیں ایک مقامی قبائلی ڈاکٹر نصراللہ کی تصویر بھی ملی جسے سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دنوں ہلاک کر دیا تھا۔ اس پر ایک میجر کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔
شدت پسندوں کی کسی بڑی مزاحمت کے بغیر اس علاقے سے روپوشی کا معمہ بھی زیر بحث رہا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا ماننا تھا کہ یہ لوگ کم از کم بلوچستان نہیں جاسکتے کیونکہ وہاں فرنٹیئر کور نے تمام راستوں کی سخت ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اکثر شدت پسند دیگر قبائلی علاقوں یا افغانستان نکل گئے ہیں۔ اورکزئی اور کرم میں جاری بمباری اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز کو ان کے وہاں موجود ہونے کی اطلاع ہے۔
اسلام آباد واپسی پر ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا اس دلکش علاقے نے آخری مرتبہ ہاتھ تبدیل کیے ہیں یا نہیں؟



















