این آر او سے فائدہ، سعید مہدی مستعفی

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
قومی مفاہمی آردیننس یا این آر او فہرست کے اجراء کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اور سابق بیورو کریٹ سعید مہدی اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوگئے ہیں ور ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔
سیعد مہدی نے اپنا استعفیٰ سوموار کو مسلم لیگ نواز کے اجلاس کے دوران پیش کیا جس کی صدارت پارٹی کے قائد نواز شریف کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
سعید مہدی کا نام این آر او کے تحت فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ فہرست وزیر مملکت افضل سندھو نے سنیچر کو جاری کی تھی اور اس فہرست میں سیاست دانوں اور بیوروکریٹ کے علاوہ اُن افراد کے نام شامل ہیں جنہوں نے این آر او سے فائدہ حاصل کیا اور اپنے خلاف مقدمات ختم کرائے۔
این آر او کی فہرست کے اجراء کے بعد سعید مہدی پہلے عہدیدار ہیں جنہوں نے اپنے سرکاری عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔
سعید مہدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے این آر او سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا گیا وہ بے بنیاد ہے اور نو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس مقدمہ کا ٹرائل شروع نہ ہوسکا۔ ان کے بقول یہ مقدمہ ان کے خلاف اس لیے قائم کیا گیا کیونکہ انہوں نے صدر آصف زرداری کے خلاف مشرف دور میں ایک مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کردیا تھا جس پر انہیں مقدمے میں شریک ملزم بنادیا گیا۔
سعید مہدی نے واضح کیا کہ انہوں نے این آر او سے فائدہ لینے کے لیے کوئی درخواست نہیں دیی تھی بلکہ احتساب عدالت میں مقدمے پر کارروائی کے لیے درخواست بھی دی تھی لیکن نوسال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔انہوں نےکہا کہ وہ عدالت میں اس مقدمے کا سامنا کرکے اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
سعید مہدی نے مزید کہا کہ اخلاقی طور پر ان کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عہدے پر فائز رہیں اس لیے انہوں نے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔















