حکومت بحران سے نکل پائے گی؟

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آ باد
- وقت اشاعت
پاکستانی حکومت کو ماضی کی سیاسی حکومتوں کی طرح ایسے سیاسی، اقتصادی اور عسکری چیلنجز کا سامنا ہے کہ عوام ایک مرتبہ پھر فکرمند ہیں کہ آیا پیپلز پارٹی کی حکومت اس بحران سے بحفاظت نکل پائے گی یا نہیں۔مبصرین کے خیال میں حکومت کو این آر او جیسے محض سیاسی بحران کا ہی نہیں بلکہ دہشت گردی، متاثرینِ جنگ کی بحالی اور بلوچستان میں حقوق کے لیے جدوجہد جیسے چینلنز کا بھی سامنا ہے جن سے احسن طریقے سے نمٹنا ہی اس کے مخالفین کی تنقید میں سے ڈنگ نکال سکتا ہے۔
سوات کا فوجی آپریشن ابھی مکمل نہیں ہوا جبکہ متاثرین کی بحالی بھی ادھوری ہے کہ ایسے میں حکومت کو وزیرستان میں بھی شدت پسندوں کے پیچھے جانا پڑگیا۔ اس کا شدید ردعمل اسے پشاور اور دیگر شہروں میں یکے بعد دیگرے خودکش حملوں کی صورت دیکھنا پڑا رہا ہے۔
اقتصادی حالت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے نے وقتی سہارا تو دیا ہے لیکن ملکی معیشت ابھی مکمل طور پر’ آئی سی یو’ سے باہر نہیں آسکی ہے۔ کبھی چینی تو کبھی گندم اور بجلی کے بحران - - - ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ موزیکل چیرز کھیل رہے ہیں۔ ایک جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے۔
سپریم کورٹ این آر او پر کیا رویہ اختیار کرتی ہے؟ یہ مسئلہ اٹھائیس نومبر کے بعد حکومت کے لیے ایک نیا قانونی درد سر بننے کے تمام لوازمات اپنے اندر رکھتا ہے۔ اسی لیے شاید ماہر قانون دان اور پارٹی رہنما اعتزاز احسن نے بھی ایسے وقت پر حکومتی کشتی پر سوار ہونے سے انکار کیا ہے۔
ملکی فوجی قیادت بھی امریکی امداد کے کیری لوگر بل پر تحفظات سامنے آنے کے بعد سے کچھ ناراض ناراض دکھائی دے رہی ہے۔ اسے بھی حکومت کی کارکردگی کوئی زیادہ بھا نہیں رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے بقول زرداری کے علاوہ دوسری کوئی بہتر آپشن دکھائی نہ دینے کی وجہ سے وہ صبر سے کام لے رہی ہے۔ لیکن حکومت ایسے کسی تناؤ سے انکار کرتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق میڈیا کے بعض حصے بھی اس کے لیے بقول اس کے ایک مسلسل ’مصنوعی بحران‘ پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس میڈیا یا صحافیوں کے گروہ کی بات پر جائیں تو صدر اور وزیراعظم کے درمیان اتنی تلخیاں پیدا ہوچکی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔
لیکن بظاہر اسی تجزیے کو غلط ثابت کرنے کی غرض سے صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سوموار کو یہاں ایوان صدر میں ملاقات کی۔ سرکاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال، جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن، بے گھر افراد کی بحالی، چینی کے مسئلہ کو دور کرنے کے لیے حکومتی اقدامات اور بلوچستان پیکج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم نے صدر کو آئینی اصلاحات سے متعلق بھی آگاہ کیا جوکہ جلد ایوان کے سامنے پیش کی جائیں گے۔ اجلاس میں احتساب کے نئے قانون پر بھی غور ہوا اور صدر نے قومی مصالحتی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم نے صدر کو پارلیمان میں کل متوقع بلوچستان پیکج کے اہم نکات کے بارے میں آگاہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ پیکج آئینی اصلاحات، معاشی اقدامات اور انتظامیہ امور سے متعلق ہے۔ صدر نے سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی اس پیکج کی تعریف کی۔ تمام نظریں اب کل کے پیکج پر لگی ہیں کہ آیا وہ بلوچستان کے قضیہ کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے یا نہیں۔



















