’آغاز حقوق بلوچستان پیکج‘: مشترکہ اجلاس شروع

پاکستان کی پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں سینیٹر میاں رضا ربانی شورش زدہ صوبے بلوچستان کے لیے خصوصی پیکیج ’آغاز حقوق بلوچستان پیکج‘ پیش کر رہے ہیں۔
اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کریں گی۔
اس سے قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکج سے بلوچستان عوام کو آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق میسر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو جب حکومت کا موقع ملا تو پہلے بلوچستان کی عوام سے معافی مانگی گئی۔
یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں سینیٹر مشاہد حسین کی سربراہی میں بلوچستان میں اصلاحات کے لیے آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، مگر اس کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سینیٹر بابر اعوان کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی۔
مجوزہ پیکج ایوان میں پیش کرنے سے قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں پیکیج کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
یاد رہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں پیکج آنے سے پہلے ہی اسے مسترد کرچکی ہیں۔ کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔















