سوات: کمانڈر سمیت گیارہ جنگجو ہلاک

فائل فوٹو، سوات
،تصویر کا کیپشنسوات میں نامعلوم عسکریت پسندوں کے لاشیں ملنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی س اردو ڈاٹ کام پشاور
  • وقت اشاعت

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں گرفتار شدت پسند کمانڈر ابو فراج کی نشاندہی پر کیے گئے آپریشن میں دس عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ کارروائی کے دوران ابو فراج بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

سوات میڈیا سینٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیے گئے عسکریت پسند کمانڈر نسیم عرف ابو فراج کی نشاندہی پر تحصیل کبل کے علاقے سیگرام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔

بیان کے مطابق کارروائی میں دس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ۔کارروائی کے دوران ابوفراج بھی زخمی ہوئے اور بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ابو فراج کو کچھ عرصہ قبل سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ وہ کوزہ بانڈئی کے کمانڈر تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی لاشیں پولیس کے حوالے کردی گئی ہیں۔ کارروائی میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

دوسری طرف ضلع سوات کے علاقے خوازہ خیلہ اور وادی پیوچار سے دو مزید نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد عسکریت پسندی اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔

ادھر جمعرات کی صبح سکیورٹی فورسز نے سوات کے مقامی صحافیوں کو سیگرام کا دورہ کرایا ہے جہاں انھیں آپریشن میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی لاشیں دکھائی گئیں۔ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام لاشیں سڑک کے کنارے پڑی تھیں اور ان میں زیادہ تر کی عمر بیس سے تیس سال کے درمیان تھی۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے ڈھرئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے تین مکانات کو بھی دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔

خیال رہے کہ دو دن قبل ڈھرئی ہی کے مقام پر سوات سے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی شمشیر علی خان کو اپنے حجرے کے اندر خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سوات میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ مختلف علاقوں سے نامعلوم عسکریت پسندوں کے لاشیں ملنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز بھی سوات سے دو عسکریت پسندوں کی لاشیں ملی تھیں۔

تقریباً چھ ماہ قبل جب سوات میں دوبارہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تو ہر دوسرے یا تیسرے دن بعد مختلف علاقوں سے نامعلوم افراد کی لاشیں ملتی تھیں اور اس طرح کی کارروائیوں میں دو سو سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ ان میں بعض ایسے شدت پسندوں بھی تھے جنھیں مبینہ طورپر سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا تھا لیکن بعد میں ان لاش سڑک کے کنارے یا چوراہوں سے ملتی تھی۔ تاہم حکومت کا موقف رہا ہے کہ اس نے کسی شدت پسند کو اپنے تحویل کے دوران نہیں مارا ہے۔