استعفیٰ پارٹی مفاد میں ہوگا: اعتزاز

’اراکین پارلیمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے‘
،تصویر کا کیپشن’اراکین پارلیمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے‘
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈریننس یعنی این آر او کے تحت فائدہ اٹھانے والے وزراء کا مستعفیْ ہونا پیپلز پارٹی کے مفاد میں ہوگا۔

سینچر کو لا اینڈ جسٹس کمیشن کے اجلاس کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ روایت ہے کہ جب کسی افسر کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو عموماً وہ افسر معطل ہوجاتا ہے۔ اس طرح وزراء کو اپنی پارلیمان کی نسشتیں محفوظ رکھتے ہوئے اس وقت تک اپنے وزارت سے الگ ہوجانا چاہیے جب تک ان کی بے گناہی ثابت نہ ہوجائے۔

ان کے بقول جیسے وہ اپنے خلاف الزامات سے بری ہوں تو دوبارہ اپنا عہدہ سنبھال لیں اور ایسا کرنا بری بات نہیں بلکہ احسن اقدام ہوگا جس سے پیپلز پارٹی کے وقار میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نےکہا کہ اراکین پارلیمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے تاہم انہیں اپنی اسمبلی کی نسشت سے مستعفیْ ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو آئینی استثنیْ حاصل ہے اس لیے آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت صدر مملکت کے خلاف کسی فوجداری مقدمے پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں کسی عہدے یا مقام کا لالچ نہیں ہے بلکہ وہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن ہیں اور اب انہیں مجلس عاملہ میں اپنی رائے دینے کا بھی موقع مل جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عہدے کی پیشکش ضرور ہوئی تھی تاہم وہ کسی عہدے پر فائز نہیں ہورہے۔ ان کے بقول این آر او کے خلاف مقدمات میں وہ کسی کے وکیل نہیں ہیں۔