این آر او کے دفاع کا ارادہ نہیں: حکومت

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ حکومت قومی مفاہمتی آرڈیننس کے دفاع میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔
قائم مقام اٹارنی جنرل شاہ خاور نے یہ بات این آر او کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران بتائی۔
سپریم کورٹ کے سترہ رکنی فل بینچ نے پیر کی صبح جب سماعت شروع کی تو قائم مقام اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل صاحبان نے عدالت کے سامنے یہ بیانات دیے کہ انہیں وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے یہ ہدایات ملی ہیں کہ حکومت این آر او کے دفاع کا ارادہ نہیں رکھتی۔
سماعت کے آغاز سے قبل حکومت کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے کہ سپریم کورٹ میں این آر او کے حوالے سے دائر درخواستوں پر عدالت جو بھی فیصلہ دے گی حکومت نہ صرف اُسے تسلیم کرے گی بلکہ اگر عدالت نے حکومت میں شامل لوگوں کے خلاف فیصلہ دیا تو حکومت اُن افراد کو تحفظ بھی فراہم نہیں کرے گی۔
این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ میں دس سے زائد درخواستیں دائر ہیں جن میں سب سے اہم درخواستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن اور ریٹائر بیوروکریٹ روئیداد خان کی ہیں جس میں انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے پانچ دسمبر سنہ دو ہزار سات کو اس آرڈیننس کے اجراء کے بعد اسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔ ان درخواستوں میں این آر آو کو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
ان درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا سترہ رکنی فل بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا فُل کورٹ تشکیل دیا گیا ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے اکتیس جولائی دو ہزار نو کے فیصلے میں متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس کو ایک سو بیس دن میں پارلیمان سے منظور کرانے کا حکم دیا تھا لیکن حزب مخالف اور اتحادی جماعتوں کی مخالفت کے باعث حکومت اس متنازعہ آرڈیننس کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کر پائی اور اس آرڈیننس کو پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے دی جانے والی مہلت اٹھائیس نومبر کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد یہ آرڈیننس غیر موثر ہوچکا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے درمیان معاہدے کے بعد جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے ذریعے حکومتِ پاکستان نے انیس سو اٹھاسی سے انیس سو نو ننانوے کے درمیان قائم ہونے والے بدعنوانی اور دیگر فوجداری نوعیت کے مقدمات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس آرڈیننس سے قریباً آٹھ ہزار افراد مستفید ہوئے تھے جن میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور بعض وفاقی وزراء سمیت چونتیس سیاست دانوں کے علاوہ فوجی اور سول افسران بھی شامل ہیں۔ اس فہرست کے مطابق آرڈیننس کے تحت ختم ہونے والے سب سے زیادہ مقدمات متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف تھے جن کی تعداد ستر سے زائد ہے تاہم یہ مقدمات بدعنوانی کے نہیں بلکہ فوجداری مقدمات ہیں۔



















