بلوچستان پیکیج: اراکین کی عدم دلچسپی پر تنقید

بلوچستان پیکج پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تین روز تک جاری رہا
،تصویر کا کیپشنبلوچستان پیکج پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تین روز تک جاری رہا
وقت اشاعت

حکومت کی جانب سے بلوچستان پیکج پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو مبصرین غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں جس سے اسے دی جانے والی سرکاری اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ تاہم ایک جائزے کے مطابق اراکین کی عدم دلچسپی اور مناسب تیاری نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہتر بنانے یا ’فائن ٹیون‘ کرنے کا ایک اچھا موقع گنوا دیا گیا ہے۔

پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ایک تنظیم پیلڈیٹ نے پارلیمانی کے بلوچستان پر مشترکہ اجلاس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ اجلاس عموماً صدارتی انتخاب پر بحث یا کسی غیرمعمولی معاملے پر غور کے لیے طلب کیے جاتے رہے ہیں۔ بلوچستان پر اس اجلاس کا انقعاد پیلڈیٹ کے مطابق ایک صحت مند پیش رفت تھی جس سے حکومت کی جانب سے اس قضیے کو دی جانے والی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

لیکن رپورٹ کے مطابق اس اجلاس سے پارلیمانی جمہوریت کی کئی کمزوریاں بھی سامنے آئیں ہیں۔ ان میں سب سے بڑی کمی اراکین کی عدم دلچسپی ان کی کم شرکت کی صورت میں دکھائی دی۔ قومی اسمبلی کے اعداوشمار کے مطابق ایک وقت پر سب سے زیادہ اراکین کی تعداد تین سو سات رہی جب کے کم سے کم ایک سو پچہتر رہی۔

یہ اجلاس چوبیس نومبر اور سات اور نو دسمبر کو منعقد ہوئے تھے۔ لیکن بعض اخباری اطلاعات کے مطابق یہ تعداد کم ہو کر ستر تک بھی گری تھی۔ رپورٹ کے مطابق اراکین کی غیرحاضری عوام میں پارلیمان کا منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔

پھر اس اہم اور حساس موضوع پر ہونے والی بحث بھی کوئی زیادہ تنقیدی نہیں رہی۔ عمومی طور پر اراکین کی اکثریت نے بلوچستان پیکج کی حمایت کی تاہم محض چند نے تجاویز دیں جبکہ اکثر بحث عمومی نوعیت کی رہی۔ رپورٹ کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں نے بحث کے لیے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔ حزب اختلاف اور اقتدار کے اراکین کی بحث سے اندازا ہوتا ہے کہ وہ حکومت پر اس پیکج پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ضرور ڈال سکتے ہیں۔

پارلیمان میں اراکین کی مجموعی تعداد یعنی پانچ سو اڑتالیس میں سے محض اڑتیس اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔ ان میں سے سولہ فیصد حکمراں پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی مسلم لیگ نون سے تھے۔ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس مجموعی طور پر محض ساڑھے دس گھنٹے جاری رہا۔

تاہم پیلڈیٹ کے مطابق کسی رکن کی موت کی وجہ سے اجلاس پورے دن کے لیے ملتوی کرنے کی روایت پر تنقید کی۔ اس کا موقف ہے کہ کسی بھی رکن کو عزت دینے کا طریقہ ان کے مشن کو مزید کام کرکے بھی کی جاسکتی ہے۔