جنوبی وزیرستان آپریشن جاری ہے: گیلانی

سید یوسف رضا گیلانی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنہم ہر اس جگہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں گے جہاں ان کی موجودگی کی اطلاع ملے گی: گیلانی
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وضاحت کی ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب جنوبی وزیرستان آپریشن ختم ہوچکا ہے اور اب اورکزئی کی بات ہو رہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کراچی میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ اگر کسی نے یہ سمجھا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن حتم ہو چکا ہے تو یہ مختلف معنوں میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں کارروائی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں پر قربضہ اور بھاری مقدار میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے خاتمے کی ڈیڈ لائن نہیں دی جا سکتی ہے لیکن اس علاقے میں کامیابی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر شدت پسند دوسری علاقوں جیسا کہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پناہ لیتے ہیں تو وہاں بھی ان کا تعاقب جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہر اس جگہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں گے جہاں ان کی موجودگی کی اطلاع ملے گی۔

اس سے قبل لاہور میں ان سے سوال کیا گیا کہ تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بجائے مذاکرات کیے جائیں تو وزیر اعظم نے کہا کہ کہ جب مالاکنڈ میں آپریشن شروع کیا گیا تھا اس وقت بھی یہ بات کہی گئی تھی کہ مذاکرات کیے جائیں لیکن سب نے دیکھا کہ مالاکنڈ کے حالات بہتر ہوگئے۔

ان کے بقول ’جنوبی وزیرستان آپریشن اب ختم ہوچکا ہے اور اب اورکزئی کی بات ہورہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ مالاکنڈ میں آپریشن کے ختم ہونے کے بارے میں کوئی ڈیڈلائن نہیں دی تھی لیکن نقل مکانی کرنے والی بیس لاکھ افراد دس ہفتوں میں واپس اپنے گھر کو چلے گئے اور دنیا کی تاریخ ایسا نہیں ہوا کہ نقل مکانی کرنے والے بیس لاکھ افراد افراد دس ہفتوں میں واپس چلے گئے ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان ان کے دوست ہیں اور ان سے ملاقات کرکے انہیں اس معاملے پر قائل کریں گے۔

ایک سوال پر وزیر اعظم نے بتایا کہ بلوچستان میں عام معافی دینے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے اور حکومت پہلے کہ چکی ہے کہ ان افراد کو رہا دیا جائےگا جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں۔

پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے بھارت کے بارے جو بات کی تھی وہ بلوچستان کے حوالے سے تھی اور پنجاب میں دہشت گردی کے بارے میں جب تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئیں گی تو اس وقت ہی کوئی حمتی بات کی جائے گی۔

غیر ملکی سفارتی اہلکاروں کی گاڑیاں روکنے اور ان کی تلاشی کے بارے میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سترھویں ترمیم کے خاتمے اور مثیاق جمہوریت پر عمل درآمد کے لیے پرعزم اور مخلص ہے اور جمہوری قوتوں کی مدد سے اس ترمیم کو ختم کردیا جائے گا۔