سرگودھا:کارروائی کے بعد حوالگي

سرگودھا سےگرفتار کیے گئے امریکی شہری
،تصویر کا کیپشنپانچوں امریکی شہری اس وقت سرگودھا کے تھانے میں قید ہیں
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سرگودھا سے گرفتار ہونے والے پانچوں امریکی شہریوں کو پاکستان میں تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد امریکہ کے حوالے کردیا جائےگا۔

وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ تفتیش جاری ہے اور اگر یہ ثابت ہوا کہ ان نوجوانوں نے پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو انہیں حوالے کرنے سے پہلے پاکستان میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی ان افراد کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائےگا البتہ اگر تحقیقات میں ان کے خلاف کوئی بات نہ آئی تو انہیں امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی شہری ہیں اور قانونی کارروائی مکمل کر کے انہیں امریکہ بھیج دیا جائےگا۔

ان پانچوں امریکی شہریوں کو بدھ کے روز سرگودھا میں مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ وہی پانچ امریکی نوجوان ہیں جو امریکی ریاست ورجینیا سے پراسرار طور پر غائب ہوئے تھے اور امریکی تحقیقاتی ادارے انہیں تلاش کررہے تھے۔

سرگودھا کے کینٹ تھانے میں قید ان پانچوں امریکی نوجوانوں سے امریکی قونصل خانے کے اہلکاروں نے ملاقات کی ہے۔ لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ ملزموں نے ان سے قانونی مدد طلب کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے لیے وکیل کا بندوبست کیا جائے۔

گرفتار شدہ امریکی شہری
،تصویر کا کیپشنپانچوں لڑکوں نے وکیل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

پولیس سرگودھا سے گرفتار کیے گئے پانچ امریکی شہریوں کے متعلق مجرمانہ فعل کے مرتکب ہونے کا ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کرسکی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف پاکستان کی عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکے۔

ان کے خلاف ویزے کے درست نہ ہونے اور سازش مجرمانہ کی جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی اسے سیل کر دیا گیا ہے۔

سرگودھا کے ضلعی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ ان ملزموں نے ابھی تک خود کسی واردات کا ارتکاب نہیں کیا ہے اور نہ ہی ماضی میں ہوئے کسی پرتشدد واقعہ میں ملوث ہیں لیکن ان کے پاکستان آنے کی نیت جہاد میں حصہ لینے کی تھی۔

سرگودھا پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، موبائل فون اور دیگر سامان سے ایسا مواد ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کے کالعدم جہادی تنظیموں سے رابطے تھے۔

پولیس کے پاس واحد ثبوت ایک ایسا موبائل فون مختصر پیغام یعنی ایس ایم ایس ہے جو کسی قاری سیف اللہ نے انہیں کیا اور جس میں انہیں میانوالی پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ ملزمان میانوالی کے راستے سے وزیرستان جانا چاہتےتھے لیکن پولیس کو اس بارے میں مزید ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔

ایک ریٹائرڈ تفتیشی افسر کا خیال ہے کہ محض اس بنیاد پر کہ نوجوانوں کی نیت وزیرستان جانے کی تھی عدالت کو قائل کرنا مشکل ہوگا کہ وہ کوئی تخریب کاری کرنا چاہتےہیں۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان نے لاہور میں جن دو اسلامی جہادی تنظیموں کے ذریعے جہاد پر جانے کی ناکام کوشش کی ان میں سے جماعت الدعوۃ ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے اوراس پر نہ تو کوئی پابندی ہے اور نہ ہی حکومت اس پر پرتشدد کارروائیوں کا الزام عائد کرتی ہے۔ دوسری تنظیم جیش محمد اگرچہ کالعدم ہے لیکن اس نے بھی ملزموں کی جہاد پر جانے کی استدعا مسترد کردی تھی۔

ان پانچ امریکی شہریوں میں پاکستان کے تفتیشی اداروں کی توجہ کی ایک وجہ قاری سیف اللہ ہے۔ قاری سیف اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس ڈاکٹر عثمان کے قریبی ساتھی ہیں جو جی ایچ کیو اور سری لنکاکرکٹ ٹیم پر حملوں میں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

پاکستان کے خفیہ اداروں اور پولیس کی کوشش ہے کہ گرفتار امریکیوں سے ان دونوں شدت پسندوں یعنی قاری سیف اللہ اور ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کچھ ایسی معلومات حاصل ہوجائیں جن کی وجہ سے ان تک رسائی ممکن ہوسکے۔

سرگودھا کے ضلعی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف بڑے ثبوت وہ ویڈیو کلپس ہیں جو وہ امریکہ میں اپنے اہلخانہ کے لیے بطور پیغام چھوڑ آئے تھے اور یہ ویڈیو کلپس اب امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس ہیں۔

امریکہ کےمسلمانوں کی ایک تنظیم کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً گیارہ منٹ طویل یہ ویڈیو کلپ دیکھا ہے اور جہاں تک انہیں یاد ہے یہ ویڈیو کلپ امریکی مسلمان نوجوانوں کے الوداعی پیغامات پر تو مبنی ہے لیکن اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ نوجوان کسی پرتشدد کارروائی میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔