جنرل پیٹریاس جنرل کیانی ملاقات

جنرل پیٹریاس اور جنرل کیانی
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں پیش رفت کے لیے یہ مددگار ہوگا کہ پاکستان افغانستان میں گڑبڑ کرنے والے عناصر پر دباؤ ڈالے
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے نائب وزیر دفاع برائے خصوصی آپریشنز مسٹر وِکرز کے ہمراہ پیر کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی ہے۔

امریکہ کے مرکزی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں فریقین نے کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بھی کوئی تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی۔ جبکہ پاکستان کی فوج کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں صرف اتنا کہا ہے کہ ملاقات میں پیشیورانہ امور پر بات چیت ہوئی۔

بعض دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ ملاقات سے محض ایک روز قبل بحرین میں دیا گیا امریکی کمانڈر کا بیان اصل میں اس ملاقات کے ایجنڈے کی طرف ایک بڑا واضح اشارہ کرتا ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اس بیان میں کہا تھا کہ افغان طالبان پاکستان کے اندر محفوظ ٹھکانوں کو اپنی پناہ کے لیے استعمال کرتے ہیں وہاں ان ٹھکانوں کو سرحد پار افغانستان میں حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

بحرین میں سیکیورٹی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں اہم پیش رفت کے لیے یہ عمل بہت مددگار ہوگا کہ پاکستان افغانستان میں گڑبڑ کرنے والے عناصر کی قیادت پر مزید دباؤ ڈالے۔

انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن بنیادی طور پر افغان طالبان پر نہیں بلکہ پاکستانی شدت پسندوں پر مرکوز ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی ہورہی ہے جس میں اب تک چھ سو کے قریب شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔ پاکستانی حکام بیک گراؤنڈ بریفنگ میں یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار سمیت پاکستان کی تشویش کے حامل معاملات حل کرے۔