کراچی: مشتبہ طالبان کمانڈر گرفتار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی پولیس نے ایک مشتبہ طالبان کمانڈر کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’کمانڈر‘ ہارون رشید عرف طوطی کا تعلق تحریک نفاذ شریعت محمدی سے ہے۔
ایس پی بلدیہ ٹاؤن عمر شاہد کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے پر اتحاد ٹاؤن سے ہارون رشید عرف طوطی کمانڈر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور ملزم سے ایک ٹی ٹی پسٹل برآمد ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم صوفی محمد کے لیے کام کرتا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم تین ماہ قبل سوات سے کراچی میں روپوش ہوگیا ۔
دوسری جانب پولیس نے گزشتہ روز قائد آباد سے گرفتار ہونے والے چار مشتبہ شدت پسندوں کا اٹھارہ دسمبر تک کے لیے جسمانی رمانڈ حاصل کرلیا ہے۔
پولیس نے پیر کو نور ولی، نیاز عرف ریاض، محمد عرف کاکا اور نیاز عرف عمر کو ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مئجسٹریٹ ملیر نور احمد کلہوڑو کی عدالت میں پیش کیا۔
عدالت نے پولیس سے ملزمان پر تشدد کے بارے میں دریافت کیا، جس پر ملزم نور ولی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس سے مقابلے کا الزام غلط ہے انہیں انتیس روز قبل گرفتار کیا گیا تھا جس دوران پولیس انہیں مختلف تھانوں پر قید کر کے تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں اور ان کا تحریک طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوات میں آپریشن کے بعد وہ بچوں کو لےکر کراچی آگیا تھا اور اس نے یہاں کرائے پر مکان لے کر رہائش اختیار کی تھی۔
دوسرے ملزم نیاز عرف ریاض نے کہا کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور ہے اور تخریب کاری سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے ملزمان کے بیان سننے کے بعد انہیں اٹھارہ دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا اور ہدایت کی کہ ملزمان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔
یاد رہے کہ پولیس نے گزشتہ روز نور ولی، نیاز عرف ریاض، محمد عرف کاکا اور نیاز عرف عمر کو قائد آباد سے مقابلے کے بعد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان سے دستی بم اور کلاشنکوف بھی برآمد ہوئی ہیں ان کا تعلق تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ سے بتایا گیا تھا۔



















