کمال اظفر کے بیان پر نئی بحث

کمال اظفر
،تصویر کا کیپشنکمال اظفر کے بیان سے ملک میں ایک نئی بحث چھِڑ گئی
    • مصنف, کاشف قمر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستانی سپریم کورٹ میں قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران گو وفاق پاکستان کے وکیل بیرسٹر کمال اظفر نے گزشتہ روز کے اپنے اس بیان کو واپس لے لیا کہ جی ایچ کیو جمہوریت کے استحکام کے خلاف ہے، لیکن ان کے بیان نےملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فوج یا جی ایچ کیو پر جمہوریت کے خلاف کام کرنے کا الزام سوچا سمجھا تھا یا کمال اظفر جیسے کہنہ مشق وکیل کی زبان پھسل گئی تھی، یہ ایک ایسا پہلو ہے جسے این آر او کے مقدمے کے دور رس اثرات کی بناء نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی تجزیہ نگار عارف نظامی کے خیال میں شاید اس بیان سے فوج اور صدر کے اختلافات سامنے لائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کیری لوگر بل پر کور کمانڈروں کا اعلانیہ ردعمل، چیف جسٹس کی بحالی میں جنرل کیانی کا کردار، انداز حکمرانی پر فوج کی بے چینی کی خبریں اور بدعنوانی کے الزام میں کچھ وزراء کی فہرست آئی ایس آئی کی جانب سے حکومت کو دینے کی اطلاعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

لیکن عسکری امور کے تجزیہ نگار ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل طلعت مسعود کے خیال میں این آر او سے اٹھائے گئے فائدے کو سیاست کے پردے میں لپیٹنے کی اس کوشش کا الٹا اثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے شاید کمال اظفر کو توقع تھی کہ عدالت عظمٰی ان سے جمہوریت کے خلاف کام کرنے والوں کی شناخت معلوم نہ کرے۔ جنرل طلعت مسعود کے خیال میں کمال اظفر کے بیان سے ان کے مؤکل کو فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔

اگر ذرائع ابلاغ کو غور سے دیکھیں تو پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اور خصوصاً صدر آصف زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانیوں کی داستانوں میں کیری لوگر بل کے پاس ہوتے ہی تیزی آگئی۔ اس بل میں پاکستان کے لیے امداد کو فوج پر سویلین کنٹرول سے مشروط کیا گیا ہے۔ عارف نظامی کے خیال میں کیری لوگر بل پر فوج کا اچانک ردعمل حیران کن تھا کیونکہ بل کی تفصیلات کافی عرصے سے منظر عام پر تھیں۔ ان کے خیال میں فوج پر سویلین کنٹرول ایک بنیادی جمہری تقاضا ہے۔

لیکن جنرل طلعت مسعود کے خیال میں بدعنوانیوں کی خبروں پر ایوان صدر کی تشویش فوج اور پیپلز پارٹی کے درمیان شکوک کے رشتے کی بناء پر ہے کیونکہ صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کو شک ہے کہ ان کے خلاف مبینہ بدعنوانیوں کی خبریں ذرائع ابلاغ میں دراصل فوج کی آشیرباد سے شائع ہو رہی ہیں۔

کچھ عرصے پہلے جب کیری لوگر بل پر مباحثے عرو ج پر تھے، تو اس بل کے خلاف فوجی کمانڈروں کے مشترکہ اظہار تشویش نے ملک میں جمہوریت کے بہی خواہوں کو چونکا دیا تھا۔ لیکن اُس وقت ایک اور سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر رسول بخش رئیس نے بی بی سی کے سامنے اس ردعمل کا تجزیہ یوں کیا تھا فوج کے ردعمل سے پہلے ہی عوامی سطح پر اس بل کے خلاف ردعمل شروع ہوچکا تھا۔ رسول بخش رئیس کے مطابق اس ردعمل کی بنیاد کیری لوگر بل میں متنازع شقوں کے پس پردہ محرکات اور ان پر حکومت کا طرز عمل تھا۔

عارف نظامی اس صورت حال کو پیپلز پارٹی اور فوج کے تعلقات کی روایتی نوعیت کے تناظر میں دیکھتے ہیں کیونکہ فوجی ایسٹیبلشمنٹ جس میں فوج کے خفیہ ادارے بھی شامل ہیں، قومی مفاد اور دفاع کے لیے اس نے پیپلز پارٹی کو کبھی قابل اعتبار نہیں سمجھا۔

لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ تو سیاست دان فوج کو معاملات سے یک دم الگ کرسکتے ہیں اور نہ فوج سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے پر فی الحال قادر ہے۔ ان کے مطابق اگر صدر زرداری نے اس وقت فوج سے مقابلے کی ٹھانی ہے تو یہ غلط وقت کا انتخاب ہے کیونکہ این آر او اور پے درپے بدعنوانیوں کے الزامات سے ان کی اخلاقی حیثیت کو خاصا دھچکا لگا ہے۔

سپریم کورٹ آئندہ چند روز میں این آر او اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے مستقبل کا فیصلہ کردے گی لیکن کئی مبصرین کے خیال میں ایوان صدر نے اس مقدمے کے ذریعے اگر ایک جانب اپنے مخالفین کو ڈٹ جانے کا اشارہ دیا ہے تو وہیں اپنے حامیوں کر بھی بظاہر یہ باور کرانے کی کوش کی ہے کہ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت اگر قبل از وقت ختم ہوئی تو ذمہ دار کون ہوگا۔