این آر او کے دو سال

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
<bold>بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈیننس </bold><bold>یا این آر او <link type="page"><caption> پانچ اکتوبر سنہ دو ہزار سات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071005_cabinet_ordinance_zs.shtml" platform="highweb"/></link> کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد جاری کیاگیا۔</bold>
اس سے پہلے چار اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی مرحومہ چیرپرسن بینظر بھٹو نے لندن میں ایک میڈیا کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرف حکومت کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات پر مفاہمت ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ زبانی طے ہونے والے معاملات آرڈیننس کی شکل میں سامنے آ جائیں گے۔
<bold>این آر او جاری ہونے کے دو دن بعد ہی <link type="page"><caption> آٹھ اکتوبر کو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071008_ordinancec_challange_zs.shtml" platform="highweb"/></link>پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور ممتاز سیاستدان ڈاکٹر مبشر حسن نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کر دیا۔ اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تھے۔ </bold>
<bold><link type="page"><caption> نو اکتوبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071009_benazir_case_nj.shtml" platform="highweb"/></link> کو پاکستان حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر مقدمات واپس لے لیے۔ اٹھارہ اکتوبر کو بینظر بھٹو خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئیں۔</bold>
<bold><link type="page"><caption> بارہ اکتوبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071012_sc_directs_si.shtml" platform="highweb"/></link> کو سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی اس آرڈیننس کی روشنی میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔ </bold>

<bold><link type="page"><caption> تین نومبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/11/071103_emrgency_emegency.shtml" platform="highweb"/></link> کو صدر جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو سپریم کورٹ کا نیا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔اس کے بعد صدر جنرل مشرف نے اٹھائیس نومبر کو اپنے فوجی عہدے سے علیحدہ ہو کر </bold>فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کر دی۔تاہم بطور سویلین صدر پرویز مشرف نے کام جاری رکھا۔
ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں ایک مبینہ خودکش حملے میں بینظر بھٹو ہلاک ہو گئی اور ان کے شوہر آصف علی زرداری پارٹی کے شریک چیرمین بن گئے۔اٹھارہ فروری کو ملک میں عام انتخابات ہوئے جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں اور چاروں صوبوں میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
<bold><link type="page"><caption> اٹھائیس فروری سنہ دو ہزار آٹھ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/02/080227_nro_stay_vaccated_fz.shtml" platform="highweb"/></link>کو صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے قومی مصحالتی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے اسے بحال کر دیا ۔</bold>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
<link type="page"><caption> چار مارچ دو ہزار آٹھ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/03/080304_asif_nab_nro_rh.shtml" platform="highweb"/></link>کو <bold>سندھ ہائی کورٹ نے قومی مصحالتی آرڈیننس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف مختلف ممالک میں دائر احتساب ریفرنس ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔</bold>
اٹھارہ اگست کو صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ۔اور چھ ستمبر کو پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری پاکستان کے نئے صدر منتخب ہو گئے اور نو ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

<link type="page"><caption> سولہ مارچ دو ہزار نو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090314_gilani_address.shtml" platform="highweb"/></link> وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلٰی عدالتوں کے دیگر معزول ججوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ چیف جسٹس کے لیے مسلم لیگ نواز سمیت حزاب مخالف کی دیگر جماعتوں نے احتجاجی تحریک چلائی تھی اور سولہ مارچ کو پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ مسلم لیگ نواز کے مطابق صدر زرداری نے متعدد وعدوں کے باوجود معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال نہیں کیا۔
چیف جسٹس کی بحالی کے بعد دیگر معاملات کے علاوہ ایک سوال جو سب سے زیادہ عوام کے ذہنوں میں گردش کررہا تھا کہ کیا جسٹس افتخار محمد چودھری قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او پر نوٹس لیں گے ۔
<link type="page"><caption> اکتیس جولائی کو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090731_ordinance_list_zs.shtml" platform="highweb"/></link> سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کے بعد اٹارنی جنرل کے آفس کی طرف سے پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے بارہ جولائی سنہ دو ہزار سات سے لے کر چودہ دسمبر سنہ دو ہزار سات کے دوران جاری کردہ سینتیس آرڈنینسز ( این آر او سمیت) کی فہرست عدالت میں پیش کر دی گئی ۔
اسی روز سپریم کورٹ میں تین نومبر کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں تعینات ہونے والے پی سی او ججز اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے حوالے سے آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے تین نومبر کو لگائی گئی ایمرجنسی کو ماورائے آئین قرار دے دیا۔ عدالت نے حکومت کوصدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر دو ہزار سات کی ایمرجنسی کے بعد اور اس سے کچھ عرصہ پہلے جاری کئے جانے گئے آرڈیننس چار ماہ کے اندر پارلیمان سے منظور کرانے کا حکم دیا۔
<link type="page"><caption> بارہ اگست </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090812_nro-supremecourt_zee.shtml" platform="highweb"/></link>سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت دائر درخواستوں کی سماعت ایک ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے علاوہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کے حوالے سے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی۔
<link type="page"><caption> چھبیس اگست</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090826_nro_sc_rh.shtml" platform="highweb"/></link> چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈنینس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ضرور ہوگی۔
<link type="page"><caption> ستائیس اگست </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090827_nro_review_rr.shtml" platform="highweb"/></link>ایمرجنسی کے بارے میں سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے کے بارے میں نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

<link type="page"><caption> سولہ اکتوبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091016_nro_assembly.shtml" platform="highweb"/></link> کو حکومت نے متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کو قانونی تحفظ دینے کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لیے پیش کردیا۔اس کے بعد تیس اکتوبر کو وزارتِ قانون و انصاف کے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اکثریت رائے سے قومی مصالحتی آرڈیننس یا ’این آر او’ کے متعلق بل کی منظوری دے دی۔
اس سے اگلے ہی روز یعنی سترہ اکتوبر کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے قومی محصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کو پارلمنٹ میں پیش کرنے کی مخالفت کی ہے۔
حکومت کو دھچکا اس وقت لگا جب دو نومبر کو وفاق اور سندھ میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے صدر آصف علی زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ متنازعہ قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کو قومی اسمبلی میں پیش نہ کیا جائے، صدر اور ان کے ساتھی جمہوریت کے لیے قربانی سے دریغ نہ کریں۔
دو نومبر کو ہی قومی اسمبلی میں قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی سپیکر فہمیدہ مرزا سے سخت تلخ کلامی بھی ہوئی۔

<link type="page"><caption> اس سے اگلے روز تین نومبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/11/091103_ppp_nro_decision.shtml" platform="highweb"/></link> کو پاکستان کی حکمران جماعت نے قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر اسے پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی روز وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کی مخالفت کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے اور این آر او کے بارے میں فیصلہ عدالت پر چھوڑتے ہیں۔
<link type="page"><caption> بائیس نومبر </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/11/091121_nro_list_aw.shtml" platform="highweb"/></link>کو حکومت نے قومی مصالحتی آرڈنینس کے تحت فائدہ اُٹھانے والے افراد کی فہرست جاری کر دی ہے جن میں صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین بھی شامل تھے۔
<link type="page"><caption> اٹھائیس نومبر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/11/091128_nro_expired_rh.shtml" platform="highweb"/></link><span>کو سپریم کورٹ کی طرف سے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو چار ماہ میں پارلیمان سے منظور کرانے کی مدت ختم ہوگئی ہے جس کے بعد اس آرڈیننس کی قانونی حثیت ختم ہوگئی۔</span>
<span><link type="page"><caption> یکم دسمبر کو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091201_nro_sc_bench.shtml" platform="highweb"/></link></span>سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے بڑا بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا اور درخواستوں کی سماعت کے لیے سات دسمبر کی تاریخ مقرر کی۔
<link type="page"><caption> تین دسمبر </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091203_nro_fullcourt_zee.shtml" platform="highweb"/></link>کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ تشکیل دے دیا گیا۔
<link type="page"><caption> سولہ دسمبر </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091216_nro_decision_rh.shtml" platform="highweb"/></link>سپریم کورٹ میں قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز مکمل ہوئی اور سپریم کورٹ نے این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا۔ این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت سات دسمبر کو شروع ہوئی تھی۔ اس سماعت کے دوران کیا ہوا اس کا <link type="page"><caption> مختصر خلاصہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091216_nro_case_7days_rh.shtml" platform="highweb"/></link>۔



















