’احتسابی عمل کا مقابلہ کریں گے‘

رحمان ملک
،تصویر کا کیپشن’امید ہے کہ ہم صحیح سمیت کی جانب بڑھیں گے‘
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آ باد
  • وقت اشاعت

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق فیصلے کی حکومت عزت کرتی ہے اور اس پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاہم اس فیصلے کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں فیصلہ عوام کریں گے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف آج کل چل رہی مہم کا جواب وہ سیاسی طور پر دیں گے۔ ’جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ہے اس قسم کی چیزیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں جن کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ آنے والے وقتوں میں ہم پر الزامات سے متعلق جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ بظاہر ان کی حکومت عدالتی فیصلے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہی تھی ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ کسی اچھے اور نہ کسی برے فیصلے کی توقع کر رہے تھے۔ ’ہم اندازے نہیں لگاتے، ہم (عدالتوں پر) حملے نہیں کرتے ہم عدالتوں کی عزت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے۔ ہم آزاد عدلیہ اور مضبوط وزیر اعظم (انتظامیہ) چاہتے ہیں۔‘

قومی مفاہمتی آرڈیننس کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ہی جمہوریت ملک میں واپس آئی اور عدلیہ آج کی طرح آزاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتسابی عمل کا مقابلہ کریں گے۔

وزیر دفاع احمد مختار کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے معاملے پر انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ حکومت کے اندر کوئی حکومت چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس افسوسناک واقعے کی وجہ ہوائی اڈے پر موجود عملے کی نااہلی تھی۔ ’وہاں پہلے سے ایک فہرست پڑی تھی۔ وہاں موجود افسر کو عقل کرنی چاہیے تھی کہ اور کسی سینئر سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ وزیر دفاع کے سٹاف نے بھی زور نہیں دیا اور جب یہ بات میرے علم میں آئی تو فلائٹ جا چکی تھی‘۔

تاہم وزیراعظم نے اپنی صوابدید کے تحت سیکرٹری داخلہ جبکہ میں نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ بعض لوگوں کے خیال میں ملک کہیں عدالتی آمریت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں چینی کی قیمت عدالت متعین کر رہی ہے، تو کیا ان کی حکومت کو بھی اس قسم کا کوئی خدشہ ہے ان کا جواب تھا کہ وہ آئین کے مطابق چلنا چاہتے ہیں جس میں عدلیہ کا اپنا اور انتظامیہ کا اپنا کردار ہے۔ ’لوگ انہیں ریاستی ستونوں کی جانب دیکھ رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم صحیح سمیت کی جانب بڑھیں گے۔‘

مخالفین کی جانب سے صدر سے لے کر وفاقی وزراء اور اسمبلی اراکین سے اخلاقی طور پر بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہو جانے کے مطالبات پر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر الزامات ہی کی بنیاد پر مستعفی ہونا پڑ جائے تو سارے سیاستدان، ساری نوکرشاہی اور آدھی اسمبلی کو جانا پڑ جائے گا۔ ’ہم سب کچھ عدالتوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف کتنے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور موجودہ ایک وزیراعلی تک پر کئی مقدمات ہیں۔ اس بابت پھر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی بقاء خطرے میں ہے اور ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ ’جو ہمیں غیرمستحکم کر رہا ہے وہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہا ہے۔ یہ بعض سیاستدانوں کی بھول ہے۔ وہ پاکستان کے لیے کوئی نیک کام نہیں کر رہے ہیں۔‘