زہریلی شراب: ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشن پاکستان میں شراب تین بروریز بناتی ہیں لیکن ماہرین کے مطابق زیادہ شراب دیسی اور جعلی طریقے سے بنتی ہے
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں حکام کے مطابق شادی کی ایک تقریب میں زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سولہ ہوگئی ہے۔

متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او گلزار نے بی بی سی بات کرتے ہویے بتایا کہ زہریلی شراب کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سولہ ہو گئی ہے جب کہ دس افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اس سے پہلے ملتان کے ایس ایس پی آپریشنز آغا یوسف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کو اس واقعے میں دس افراد ہلاک ہوئے جب کہ چار مزید افرد منگل کو ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر کو پولیس حکام نے بتایا تھا کہ شراب پینے سے جو افراد شدید بیمار ہوئے ان میں چار کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ملتان کے علاقے شریف پورہ میں ایک شخص محمد اصغر کی شادی کی تقریب میں دولہا کے رشتہ داروں نے شراب پی تھی جس کے بعد ان میں سے متعدد کی حالت بگڑ گئی تھی۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق پولیس نے زہریلی شراب تیار کرنے اور فروخت کرنے کے الزام میں تین افراد کوگرفتار بھی کیا ہے جن کے خلاف نیو ملتان پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزموں کے بیان کی روشنی میں مزید افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے جو روپوش ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے ما رہی ہیں۔ ملتان کے مقامی صحافیوں کے مطابق زہریلی شراب سے بیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شراب بیچنے اور پینے پر پابندی عائد ہے اور صرف غیر مسلم افراد حکومتی لائسنس سے مقرر کردہ جگہوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔