رحمان ملک: سزا پر عمل رک گیا

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو احستاب عدالت کی طرف سے دانستہ روپوشی کے الزام میں دی گئی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے یہ حکم رحمان ملک کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے نیب کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ ہائی کورٹ نے رحمان ملک کی ایک ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت بھی منظور کر لی ہے۔
رحمان ملک کو راولپنڈی کی احتساب عدالت نے دو مختلف ریفرنسوں میں دانستہ روپوشی کے الزام تین، تین سال قید کی سزا سنائی تھی اور این آر او کے خاتمے کے وفاقی وزیر نے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ چیف جسٹس خواجہ محمد شریف اور مسٹر جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل ہے اور رحمان ملک منگل کے روز بنچ کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران رحمان ملک کے وکیل چودھری مشتاق احمد خان نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی موکل کو اس وقت احتساب عدالت نے سزا سنائی جب وہ ملک سے باہر تھے اور قانون کے تحت عدم موجودگی میں سزا نہیں سنائی جاسکتی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی احتساب عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا کو ختم کر دیا جائے۔
ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے رحمان ملک کو عدالت میں پیش ہونے سے استثنیْ دینے کے بارے میں زبانی استدعا منظور نہیں کی۔اس سے قبل جب ہائی کورٹ کے بنچ کے روبرو رحمان ملک کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی تو عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ جو اپیل دائر کی گئی ہے وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ چار سو چھپاسی کے تحت دائر کی گئی ہے اس لیے اس پر سماعت نہیں ہوسکتی لہذا وہ آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت درخواست دائر کریں۔ رحمان ملک کے وکیل نے عدالتی ہدایات کی روشنی میں نئی درخواست دائر کی جس پر سزا پر عمل روکتے ہوئے نیب کو نوٹس جاری کردیے گئے۔
عدالتی کارروائی کے بعد وفاقی وزیر رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں اور اسی لیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں۔ انہوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ ذرہ برابر بھی مقدمے میں ملوث ہوتے وہ اپنے عہدے سے استعفیْ دے دیتے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ فیصلہ ہے کہ ہر صورت میں عدلیہ کی عزت اور احترام کرنا ہے اور ان عدلیہ کی ہدایات اور فیصلوں پر عمل درآمد کروانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















