پاکستان کو آئی ایم ایف قرضے کی نئی قسط

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ایک ارب بیس کروڑ ڈالر قرضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے آئی ایم ایف اور حکومتِ پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا قرضہ پاکستان کو فراہم کیا جانا تھا جو پانچ سال میں واجب الادا ہوگا۔
آئی ایم ایف کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے تاہم کچھ خدشات موجود ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے خدشات پاکستان میں امن و امان کی صورتحال، ٹیکس وصولی میں ناکامی اور امداد کی کمی کے حوالے سے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی بجٹ خسارے کی شرط کو نظر انداز کرنے کی درخواست بھی مان لی ہے۔اس رقم کی ادائیگی کے بعد معاہدے کے تحت دی گئی کل رقم چھ عشاریہ پانچ چار بلین ڈالر ہو گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے واشنگٹن دفتر میں پاکستان مشن کے سربراہ عدنان مذری نے کہا ’پاکستان داخلی اور خارجہ مشکل حالات کے باوجود بہتری لایا ہے لیکن ابھی مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کو پاکستان کی مزید مدد کرنی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نومبر دو ہزار آٹھ سے مہنگائی کی شرح کو پچیس فیصد سے کم کر کے دس عشاریہ پانچ فیصد تک لے آیا ہے۔ ’مالی مشکلات کے باوجود معیشت میں استحکام آیا ہے۔‘
مذری نے کہا ’آئندہ چند ماہ میں پاکستان کو بجٹ مینیجمنٹ بہتر کرنی ہو گی اور یہ بہت ضروری ہے کہ دیئے گئے اہداف پورے کیے جائیں خاص طور پر وہ اہداف جو رواں مالی سال کے اختتام کے لیے دیئے گئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا کو پاکستان کو درپیش مشکلات کا احساس کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان نے پاکستان کو پانچ عشاریہ سات بلین ڈالر امداد کا وعدہ کیا تھا لیکن صرف ایک سو ملین ڈالر امداد فراہم کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایم ایف کے پاکستان مشن کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بہت کم ہے جس کی وجہ سے اتنی رقم نہیں بنتی کہ ترقیاتی کاموں میں لگائی جا سکیں۔ ’اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کو جلد ہی پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اگر یہ مسودہ منظور ہو جاتا ہے تو ویلیو ایڈڈ ٹیکس یکم جولائی دو ہزار دس سے لاگو ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی آمدن میں جی ڈی پی کے دو فیصد اضافہ ہو۔
یاد رہے کہ رواں سال جون میں پاکستان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ اگر فرینڈز آف پاکستان نے مدد نہ کی تو ایک مرتبہ پھر پاکستان کو عالی مالیاتی فنڈز سے ساڑھے چار ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھا فرینڈز آف پاکستان نے پانچ ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اس سے پہلے بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف سے ساڑھے چار ارب ڈالر کا قرضہ لے چکا ہے اور آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔
واضح رہے کہ نومبر دو ہزار آٹھ میں شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے آئی ایم ایف اور حکومتِ پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا قرض پاکستان کو فراہم کیا جائے گا جو پانچ سال میں واجب الادا ہوگا۔
انہوں نے دعوٰی کیا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کا پلان منظور کرتے ہوئے قرض دینے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرض ساڑھے تین اور ساڑھے چار فیصد سود پر ملے گا جو مالی سال 12۔2011 سے واجب الادا ہوگا اور اسے پانچ سال میں ادا کرنا ہوگا۔



















