قرض شیرِ مادر ہے ؟

فائل فوٹو، اے ٹی ایم مشین
،تصویر کا کیپشنتین ہزار تین سو کاروباری حضرات، سیاستداں، ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور صحافی آٹھ برس میں چار بینکوں کے ایک سوچون ارب روپے ڈکار گئے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

چند برس پہلے تک کسی بھی پاکستانی بینک میں صرف پانچ سو روپے سے اکاؤنٹ کھل جاتا تھا اور بینک صرف چیک ُبک جاری کرنے کے پیسے کاٹتا تھا۔ آج صورت یہ ہے کہ بیشتر بینکوں میں کسی بھی عام آدمی کو اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے پانچ ہزار روپے درکار ہیں۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں پانچ ہزار روپے سے کم ہوں تو بینک ایسے اکاؤنٹس برقرار رکھنے کے لیے ماہانہ فیس کاٹتا ہے۔

اگر آپ کو اپنے ہی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرانے ہوں تو اس کی فیس ہے، پیسے نکلوانے ہوں تو اس کی فیس الگ ہے۔ایک ہی بینک کی برانچ کےاکاؤنٹ سے دوسری برانچ کے اپنے ہی اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کرنے ہوں تو اس کی فیس علیحدہ ہے۔ اپنے ہی اے ٹی ایم کارڈ سے اپنے ہی پیسے نکلوانے ہوں تو اس کی فیس ہے۔

کریڈٹ کارڈ کی واجب الادا رقم اگر سو فیصد بھی ادا کردی جائے تو اگلے ماہ کے بینک سٹیٹمنٹ میں سو ڈیڑھ سو روپے کے لگ بھگ بینک چارجز دوبارہ منہ پھاڑے کھڑے ہوتے ہیں اور اگر وہ بینک چارجز ادا کرنے کی تاریخ نکل جائے تو اگلے بینک سٹیٹمنٹ میں یہی چارجز چھ سو سے آٹھ سو روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔

انہی بینکوں سے اگر آپ قرض لینا چاہیں تو بطور ضمانت اتنی ہی مالیت کی املاک رہن رکھوائی جاتی ہیں اور قرض کی دستاویز پر اسی بینک کے دو یا دو سے زائد اکاؤنٹ ہولڈرز کے بطور ضمانتی دستخط درکار ہیں۔ ایک سے پانچ فیصد تک رقم قرضہ جاری ہونے سے پہلے پروسیسنگ اور ڈاکو منٹیشن کے نام پر کاٹ لی جاتی ہے اور جس شرح سود پر قرض جاری کیا جاتا ہے، وہ شرح سود طے شدہ نہیں ہوتی کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ اگر ایک قسط ادا ہونے سے رھ جائے تو بذریعہ فون اور خط قرض خواہ کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔اگر دو قسطیں نہ آئیں تو پھر بینک سادہ کپڑوں میں مسٹنڈوں کو قرض خواہ کے پتے پر بھیجنا شروع کردیتا ہے اور یوں سود در سود میں دھمکیاں، گالیاں اور بعض اوقات مارپیٹ تک شامل ہوجاتی ہے۔

ایسے ماحول میں یہ خبر آتی ہے کہ تین ہزار تین سو کاروباری حضرات، سیاستداں، ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور صحافی آٹھ برس میں چار بینکوں کے ایک سوچوّن ارب روپے ڈکار گئے اور ان بینکوں نے ان حضرات کو بینکنگ عدالتوں میں گھسیٹنے یا مسٹنڈوں کے ذریعے پیسہ نکلوانے کے بجائے سارا قرض ہی معاف کر دیا۔

ان میں سے بیشتر وہی کاروباری حضرات، سیاستداں، ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور صحافی ہیں جنہوں نے چند ماہ پہلے ہی کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی ڈیڑھ ارب ڈالر کی سالانہ امداد کو پاکستان کی غیرت و حمیت کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ جو ایک سو چوّن ارب روپے ماں کے دودھ کے طور پر بخش دیے گئے وہ ان بینکوں کا ذاتی پیسہ تھا یا میرے اور آپ جیسے ان کروڑوں کھاتے داروں کی امانت تھا کہ جنہیں اپنا ہی پیسہ نکلوانے، جمع کروانے اور استعمال کرنے کے لیے قدم قدم پر ان بینکوں کے کشکول میں فیس اور چارجز پھینکنا پڑتے ہیں اور یہ بینک ہم جیسوں پر واجب الادا سو روپے بھی معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

مجھے آج اس مقولے پر یقین آگیا کہ اگر آپ پچاس ہزار کے مقروض ہیں تو بینک آپ کے اوپر ہے، اگر آپ پچاس کروڑ کے مقروض ہیں تو بینک آپ کے نیچے ہے۔