صدر زرداری کی تقریر پر ملا جلا ردعمل

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری نے تقریر میں خبردار کیا تھا کہ جمہوریت کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے والوں کی وہ آنکھیں نکال لیں گے۔
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صدر آصف علی زرداری کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹو میں ایک تقریب سے خطاب پر سیاسی جماعتوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے جب کہ حکومت مخالف سیاسی پنڈتوں نے صدر زرداری کی تقریر کو ’سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ‘ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے۔

اردو اخبار ایکسپریس کے مطابق مسلم لیگ ’ن‘ نے کہا ہے کہ حکمرانوں سے حکومت چلائی نہیں جا رہی اور الزامات دوسروں پر لگا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ’ این آر او کیس میں صدر زرداری کے وکیل نے جی ایچ کیو اور سی آئی اے کی طرف اشارہ کیا تھا اور لگتا ہے کہ اسی چیز کو دوبارہ دوہرایا گیا ہے۔‘

<link type="page"><caption> صدر زرداری کا گڑھی خدا بحش میں خطاب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091227_zardari_speech.shtml" platform="highweb"/></link>

اخبار کے مطابق سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا ہے کہ صدر زرداری نے خوف اور دباؤ سے نکلنے کے لیے جارحانہ تقریر کی جس میں انھوں نے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر خود کو مظلوم کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ تمام سازشیں صدر کے ذہن میں ہیں اور کرپشن کی وجہ سے قیادت کمزور ہے، صدر کی تمام باتیں حقائق کے منافی تھیں۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ قوم کے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر نے خود فوج کو چارج شیٹ کیا اور مفاہمت کی باتیں کرنے والا شخص فوج، عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام قوتوں کے خلاف اعلان جنگ کر رہا ہے۔

حکومت کی وفاق اور سندھ میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے صدر زرداری کی تقریر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی و استحکام اور جمہوریت کی بقاء کے لیے صدر زرداری کے خیالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

اردو اخبار آج کل کے مطابق الطاف حسین نے کہا کہ صدر زرداری نے اپنی تقریر میں پاکستان کھپے کے جس عزم کا اعادہ کیا وہ انتہائی خوش آئند ہے اور ایم کیو ایم اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔

حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے صدر زرداری کی تقریر کو عوام سے نہیں بلکہ اپنے کارکنوں سے خطاب قرار دیا۔

اخبار آج کل کے مطابق اے این پی کے رہنما حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے جن غیرریاستی عناصر کی بات کی ہے وہ طالبان اور دہشت گرد تھے۔ جماعت نے پیپلزپارٹی کی مرحومہ چیئرپرسن بینظر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کو جماعت کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

دوسری جانب حکومت مخالف پنڈتوں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے بغیر کسی نشاندہی کے تمام اداروں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراغطم گیلانی کو چاہیے کہ وہ ملک کی چار اہم شخیصات جن میں صدر کے علاوہ چیف جسٹس، آرمی چیف اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف شامل ہیں کو مسائل کے حل کے لیے غیر رسمی دعوت دیں۔

انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریے کا موزوں صدر زرداری کی ہی تقریر کو بنایا ہے جس میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ صدر زرداری نے اپنی تقریر میں جمہوریت مخالف قوتوں کا ذکر تو کیا لیکن ان کا نام نہیں بتایا جس کی وجہ سے سازشوں کے نظریات کو مزید فروغ ملے گا۔

اخبار کے مطابق کیا پیپلز پارٹی کے مخالفین میں اسٹیبلشمنٹ، فوج، میڈیا کا ایک گروپ ہے؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک طرف صدر زرداری سازشوں کا ڈھول پیٹ رہے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم گیلانی اداروں کے تصادم کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت مضبوط ہے۔ ان میں سے کون ٹھیک ہے صدر یا وزیراعظم؟ ملک اور سیاست دانوں کی ضرورت ہے کہ وہ سچ جانیں اور اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو اس سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔