سی این جی ہڑتال: صارفین مشکلات کا شکار

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ اور اس کی قیمت میں متوقع اضافے کے خلاف آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام احتجاجاً سی این جی سٹیشنز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ملک کے پیشتر حصوں میں سی این جی سٹشینز بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیوں کو پٹرول پر منتقل کرکے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے ۔
وفاقی کابینہ نے پندرہ نومبر سنہ دو ہزار نو سے پندرہ مارچ سنہ دو ہزار دس کے دوران لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت سی این جی سٹیشنز کو ہفتے میں دو دن گیس کی فراہمی معطل کرنے اور یکم جنوری سے قدرتی گیس یعنی سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے جو فیصلے کیے ہیں اس کو سی این جی مالکان اور نمائندہ ایسوسی ایشن نے مسترد کردیا ہے۔
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے غیر معینہ مدت کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی اس وقت تک سی این جی سٹیشنز بند رکھے جائیں گے۔
سی این جی سٹیشنز ایسوسی ایشن کے نمائندہ کے مطابق ’ملک بھر میں تین ہزار چھ سی این جی سٹیشنز میں دو ہزار نو سو سٹیشنز بند ہیں اور اس طرح ننانوے فیصد ہڑتال کامیاب رہی ہے اور ہڑتال کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔‘
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کےمختلف علاقوں میں سی این جی کی فروخت جاری ہے جہاں پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں اور لوگ سی جی این کے حصول کے لیے مختلف علاقوں میں چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ ایسوسی ایشن کے نمائندے کے مطابق جن گنے چنے پٹرول پمپس پر سی این جی فروخت کی جا رہی ہے وہ پٹرولیم کمپنیوں کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
راولپنڈی میں سی این جی ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹ یونین نے سی این جی کی قمیتوں میں متوقع اضافے کے خلاف ایک ریلی بھی نکالی جو راجہ بازار سے شروع ہوکر لیاقت باغ پر ختم ہوئی۔ ریلی کے اختتام پر مظاہرین نے دھرنا بھی دیا۔
پنجاب کے علاوہ پشاور سمیت صوبہ سرحد کے مختلف شہروں میں بھی سی این جی سٹیشنز بند رہے تاہم پشاور شہر میں گاڑیوں کی آمد ورفت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ ہڑتال کےاعلان کی وجہ سے لوگوں نےمنگل کو رات گئے سی این جی سٹیشنز پر جاکر اپنے گاڑیوں کے لیے گیس حاصل کرلی تھی البتہ ہائی وے پر سفر کرنے والے لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر کراچی سمیت سندھ بھر میں سی این جی سٹشین کھلے رہے کیو نکہ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن اور سی این جی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے عہدیدار کیپٹن ریٹائرڈ شجاع کا کہنا ہے ’ہفتے میں دو دن سی این جی سٹشینز کی بندش اور اس کی قمیت میں اضافے کے اقدامات سی این جی انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں ۔ ان کے بقول پٹرول اور سی این جی میں پچاس فیصد کا فرق برقرار رکھا جائے اور نئی سی این جی پالیسی تشکیل دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اکتیس دسمبر کو لاہور میں ہڑتال کے ساتھ ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی جو ایوان صعنت تجارت سے شروع ہو کر گورنر ہاؤس پر ختم ہوگی۔



















