کراچی ہنگامے: بیس گرفتار، چھاپے جاری

کراچی پولیس نے بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں جاننے کے لیے پشاور بم سکواڈ سے مدد طلب کرلی ہے
،تصویر کا کیپشنکراچی پولیس نے بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں جاننے کے لیے پشاور بم سکواڈ سے مدد طلب کرلی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی میں پولیس نے یوم عاشورہ کے جلوس میں دھماکے کے بعد مارکیٹوں کو نذر آتش کرنے اور لوٹ مار کے الزام میں اب تک بیس افراد کوگرفتار کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں کلوز سرکٹ کیمرہ میں سے حاصل کی گئی ریکارڈنگ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں سے کی گئی ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ان ملزمان سے لوٹا گیا سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

<link type="page"><caption> ’سینکڑوں دکانیں، پچاس گاڑیاں جلیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091231_karachi_update_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> طالبان کا کراچی حملے سے اعلانِ لا تعلقی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091231_taliban_claim.shtml" platform="highweb"/></link>

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید گرفتاریاں عمل میں آسکتی ہیں۔

اب تک پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار چار افراد عاصم حسین، ریاض حسین، اقرار اور روحان حسین کا چھ جنوری تک جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی شیراز حسین کی عدالت میں پیش کیا اور بتایا کہ ملزمان پر کے ایم سی بلڈنگ کے قریب دو بینکوں اور دکانوں کو نذر آتش کرنے کا الزام ہے۔

کراچی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی فوٹیج بدھ کو جاری کردی گئی تھی اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ریکارڈ مرتب کر لیا گیا تھا۔ تاجروں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ جلاؤ اور لوٹ مار میں ملوث ملزمان کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر گرفتار کیا جائے اور انہوں نے گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں بھی یہ مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب چھوٹے تاجروں کی تنظیم، ٹرانسپورٹروں، شیعہ تنظیموں، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ق نے اہلسنت جماعتوں کے اتحاد سنی رہبر کونسل کی جانب سے جمعہ کو شٹر بند اور پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی بار نے اعلان کیا ہے کہ وکلاء جمعہ کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔

کراچی پولیس نے بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے پشاور بم سکواڈ سے مدد طلب کرلی ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ پشاور بم ڈسپوزل سکواڈ گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے واقعات کا زیادہ سامنے کرچکے ہیں اور انہیں اس بارے میں زیادہ تجربہ حاصل ہے اس لیے ان کی مدد طلب کی گئی ہے۔

کراچی پولیس اس بات کا تعین نہیں کرسکی ہے کہ یہ دھماکہ خودکش تھا یا یہ بم کہیں نصب کیا گیا تھا۔ بم دھماکے کے بعد ملنے والے تمام انسانی سروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بم کسی گاڑی یا روڈ پر نصب ہوتا تو وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے مگر اس واقعے میں ایسے شواہد نہیں ملے جبکہ اس حوالے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ یہ بم کہیں بجلی، ٹیلیفون کے کھمبے یا سگنل میں تو نصب نہیں کیا گیا تھا جو زمین سے اوپر تھے۔

ادھر لائٹ ہاؤس کے دکانداروں نے ایک احتجاجی کیمپ قائم کردیا ہے جس میں متاثر تاجر موجود ہیں جبکہ دکانوں پر شناخت کے لیے بینر آویزاں کیے گئے ہیں۔ کچھ تاجروں نے اپنی دکانوں کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ سٹی حکومت کی جانب سے انہیں روکا جارہا ہے۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع تمام بازار بند ہیں۔ بولٹن مارکیٹ اور اردگرد کی مارکیٹوں سے دکاندار بچ جانے والے سامان کو نکال رہے ہیں۔ کچھ دکانداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایک ارب روپے ان کو نہیں ملیں گے کیونکہ سرکاری امداد کبھی متاثرین تک نہیں پہنچی۔ ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی بینر بھی آویزاں ہیں جن میں حکومت سے مدد کی اپیل کی گئی ہے جبکہ کچھ پر یہ تحریر ہے کہ ’آئندہ ایم اے جناح روڈ پر جلوس گذرنے کی اجازت نہ دی جائے‘۔

اس سے قبل کراچی پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران نہ صرف شہر کے پانچ تھانوں کی حدود میں واقع سینکڑوں دکانوں اور پچاس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذرِ آتش کیا گیا بلکہ اسلحہ کی دکانوں اور ایک بینک کی اے ٹی ایم مشین کو بھی لوٹا گیا۔

فوٹیج میں واضح طور پر ہجوم کو دکانوں کے تالے توڑتے اور آگ لگاتے دکھایا گیا ہے جبکہ فوٹیج کے کچھ حصوں میں مشتعل افراد کو پولیس اور فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی آگ لگاتے اور نقصان پہنچاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی سے میٹھادر، کھارادر، پریڈی، رسالہ اور سٹی کورٹ تھانے کے زیرِ انتظام علاقے متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھارادر تھانے کی حدود میں واقع پلاسٹک مارکیٹ، کوئٹہ والا مارکیٹ اور چھیپا سینٹر کی تمام دکانیں اورگودام جبکہ رسالہ تھانے کی حدود میں واقع لنڈا بازار کی ایک سو ساٹھ دکانیں نذرِ آتش کی گئیں۔