’سینکڑوں دکانیں، پچاس گاڑیاں جلیں‘

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
- وقت اشاعت
کراچی میں عاشورۂ محرم کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد شہر میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی فوٹیج جاری کی گئی ہے جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ریکارڈ مرتب کر لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پیر کی شام کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر عاشورۂ محرم کے جلوس میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں عورتوں اور بچوں سمیت بیالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن کے دوران شہر کی مرکزی مارکیٹوں میں سینکڑوں دکانوں کو نذرِ آتش کردیا گیا تھا۔
<link type="page"><caption> خاکستر عمارتوں سے اٹھتا دھواں: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091230_karachi_violence.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> طالبان کا حملے کا دعوٰی، متاثرین کے لیے امداد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091230_khi_suicide_taliban_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کراچی پر وار کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091228_karachi_analysis.shtml" platform="highweb"/></link>
کالعدم تحریکِ طالبان کے ایک کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے بدھ کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
مقامی ٹی وی چینلوں پر دکھائی جانے والی اس فوٹیج میں واضح طور پر چند افراد کو دکانوں کے تالے توڑتے اور آگ لگاتے دکھایا گیا ہے جبکہ فوٹیج کے کچھ حصوں میں مشتعل افراد کو پولیس اور فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی آگ لگاتے اور نقصان پہنچاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ادھر کراچی پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران نہ صرف شہر کے پانچ تھانوں کی حدود میں واقع سینکڑوں دکانوں اور پچاس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذرِ آتش کیا گیا بلکہ اسلحہ کی دکانوں اور ایک بینک کی اے ٹی ایم مشین کو بھی لوٹا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کی رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی سے میٹھادر، کھارادر، پریڈی، رسالہ اور سٹی کورٹ تھانے کے زیرِ انتظام علاقے متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھارادر تھانے کی حدود میں واقع پلاسٹک مارکیٹ، کوئٹہ والا مارکیٹ اور چھیپا سینٹر کی تمام دکانیں اورگودام جبکہ رسالہ تھانے کی حدود میں واقع لنڈا بازار کی ایک سو ساٹھ دکانیں نذرِ آتش کی گئیں۔
اس کے علاوہ شرپسندوں نے دو ہوٹلوں، کراچی میونسپل کارپوریشن کی پرانی عمارت میں واقع دو بینکوں اور میٹھادر اور کھارادر تھانے کی حدود میں واقع اسلحے کی دو دکانوں کو بھی لوٹ کر آگ لگائی۔ رپورٹ کے مطابق آتشزدگی سے ڈینسو ہال کی میڈیسن مارکیٹ، مرکنٹائل سنٹر اور لوٹیا بلڈنگ کے گوداموں کے علاوہ کھارادر کا ٹریفک سیکشن بھی متاثر ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلائی جانے والی گاڑیوں میں پولیس اور رینجرز کی تین گاڑیوں اور ایک ایمبولنس کے علاوہ انیس موٹرسائیکلیں، پندرہ ویگنیں، پانچ کاریں اور جیپیں، دو ٹرک اور چار بسیں بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف زرداری نے بدھ کو کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں کراچی دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد اور فرقہ وارانہ انتہا پسند عوام اور حکومت دونوں کے دشمن ہیں اور حکومت انہیں ان کےگھناؤنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
کراچی کی تاجر برادری کے رہنماؤں نے بھی بدھ کو کراچی میں صدر زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں متاثرین کی امداد کے لیے تین ارب روپے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وفاقی کابینہ پہلے ہی کراچی آتشزدگی سے متاثرہ افراد کے لیے ایک ارب روپے کی امداد کی اعلان کر چکی ہے۔
تاجر رہنما سراج قاسم تیلی کے مطابق انہوں نے صدر کو آگاہ کیا کہ اس نوعیت کا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور اس سے قبل بینظیر کی شہادت کے وقت بھی یہ ہوا تھا۔ ’اس وقت بھی ہم نے کہا تھا کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے کیونکہ ٹی وی پر یہ سارے نظر آرہے ہیں اگر نہیں کرو گے تو یہ دوبارہ ہوگا اور یہ بات ہم نے صدر زرداری کو بھی بتائی ہے‘۔
ان کے مطابق صدر زرداری، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وفاقی وزیر رحمان ملک نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے پاس موجود فوٹیج میں جو لوگ نظر آرہے ہیں انہیں گرفتار کیا جائے گا۔



















