عملہ نکالنےکی وجہ طالبان دھمکی

- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی تنظیم پاکستان سے اپنا ایک چوتھائی عملہ نکال رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ بدھ کی رات طالبان کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکی ہے۔
بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں اقوام متحدہ کی قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر شاذیہ یوسف بخیر نے بتایا کہ بدھ کی رات کو اقوام متحدہ کو ایک فیکس موصول ہوئی جس میں اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام پر حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ دھمکی کس کی طرف سے دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پانچ اکتوبر کو سیکٹر ایف ایٹ میں واقع اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر کی عمارت کے اندر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ترقیاتی کام کرنے بہت مشکل ہیں تاہم عالمی تنظیم امدادی کام جاری رکھے گی۔
شازیہ نے کہا ’اس دھمکی کے موصول ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں موجود عملے میں سے پچیس فیصد عملے کو پاکستان سے نکال رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن امدادی کام کے لیے صورتحال موزوں نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں پر تشدد واقعات میں اقوام متحدہ کے بارہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔’جس عملے کو ہم نے ملک سے باہر بھیجا ہے ان میں زیادہ تر وہ عملہ ہے جو ان علاقوں میں کام کر رہا تھا جہاں مسلح تصادم جاری ہے جیسے کہ صوبہ سرحد اور پاکستان کے قبائلی علاقے۔ اور اس عملے کے جانے کی وجہ سے ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ صرف ورلڈ فوڈ پروگرام ہی کو دھمکی نہیں ملی ہے بلکہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے اور ادارے ایف اے او کو بھی دھمکی موصول ہو چکی ہے۔ ’پاکستان سے نکالے جانے والے عملے کو دبئی اور انڈونیشیا بھیجا جا رہا ہے۔‘
بخیت کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کی وجہ سے فیصلہ کیاگیا ہے کہ عالمی تنظیم کے جن اداروں کے دفاتر اسلام آباد کے مختلف رہائشی سیکٹروں میں واقع ہیں ان کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ ’اقوام متحدہ پاکستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا لیکن ان دفاتر کی منتقلی اس لیے کی جا رہی ہے کہ امدادی کام ایک طرف لیکن عملے کی حفاظت بہت اہم ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت داخلہ کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی تنظیم ورلڈ فوڈ پروگرام کو کچھ ہی دن قبل دھمکی موصول ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھمکی طالبان کی جانب سے دی گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم ورلڈ فوڈ پروگرام اپنی غیر جانبدار کھو چکی ہو جو کہ ان امدادی کام کرنے والی تنظیموں کے لیے بہت اہم ہوتی ہے اور اسی لیے اس کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی ملی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کا سامان جو پاکستان سے افغانستان جاتا ہے وہ نیٹو کی رسد لے جانے والے قافلے کے ساتھ جاتا ہے۔



















