احتساب جرنیلوں،عدلیہ کا بھی:کائرہ

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
وفاقی وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ ساست دانوں کے احتساب کے ساتھ ساتھ جرنیلوں اور عدلیہ کا بھی احتساب کیا جائے۔
اتوار کی شام کو پنجاب کے شہر حافظ آباد میں پریس کلب کی عمارت کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کا احتساب کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے کریں لیکن ان جرنیلوں کا بھی احتساب کیا جائے جنہوں نے آئین کو توڑا اور ملک لوٹا جبکہ عدلیہ نے ان آمروں کے ساتھ مل کر فیصلے کیے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا جرنیلوں نے ملک کےساتھ کھلواڑ نہیں کیا اور کیا اس ملک کی عدلیہ کا کردار ماضی میں صاف رہا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ سیاست دان کا احتساب تو ستر سے شروع کیا جائے لیکن باقی ادارے مقدس ہیں اس لیے ان کا احتساب سنہ دو ہزار سات کے بعد سے شروع ہو۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اداروں میں تصادم نہیں چاہتے اور نہ ان کے درمیان تصادم ہونے دیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے بقول مسلم لیگ نون کے قائد نواز شرف وطن واپس آئے تھے لیکن جنرل پرویز مشرف نے انہیں واپس سعودی عرب بھجوادیا لیکن بینظیر بھٹو نے واپسی کا راستہ بنایا اور خود پاکستان واپس آئیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی پاکستان آنے کا دروازہ کھلا ہے۔
قمرالزمان کائرہ کے بقول سابق صدر جنرل پرویز مشرف نواز شریف کو قتل کرنے کے درپے تھے اور نواز شریف نے اچھا کیا کہ ان کے بیرونی دوستوں نے ان کی مدد کی اور وہ باہر چلے گئے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے بغیر کسی سزا کے گیارہ سال تک جیل کاٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت میں کسی کے خلاف ایک بھی جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا گیا حالانکہ ان کو گالیاں دیں گئیں اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے لیکن یہ سب کچھ برداشت کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول تمام سیاسی جماعتوں کو تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ آمروں نے جمہوریت کو کمروز کیا اور پاکستان میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے عوام کو جمہوریت کا فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کا ایک سیکشن ہے جو روزانہ رات کو ان کی حکومت کو ختم کر کے سوتا ہے اور صبح اٹھ کر دوبارہ منصوبہ بندی کرتا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا نام لیے بغیر ان پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ تنقید کرنے والے سرکاری ٹی وی کے ایم ڈی بنے اور صدر آصف علی زرداری کی صدارت کی انتخابی مہم بھی چلائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















