جنوبی پنجاب:شدت پسندی کی حقیقت

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
گزشتہ چند ماہ سے پنجابی طالبان کا بڑا چرچہ ہور ہا ہے اور اس میں جنوبی پنجاب کا ذکر بڑھ چڑھ کر ہوتا رہا ہے۔ سرائیکی پٹی میں شدت پسند پنجابی طالبان کے تعلق کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور ملتان میں جاکر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے بات کی اور ایک خصوصی سیریز ترتیب دی ہے۔ جنوبی پنجاب میں شدت پسندی حقیقت اور افسانہ کے نام سے مرتب کردہ اس سیریز کی یہ پہلی قسط ہے۔(ایڈیٹر)
پاکستان میں زیادہ تر شدت پسندی کا تعلق مذہبی انتہا پسندی سے جڑا ہوا ہے اور صوبہ سرحد کے طالبان بندوق کے زور پر اپنی تشریح کردہ اسلامی تعلیمات عام لوگوں پر نافذ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
حالات جب ریاستی کنٹرول سے باہر ہوتے نظر آئے تو فوج کو طالبان کے خلاف آپریشن کے لیے بلانا پڑا۔ ایسے میں طالبان شدت پسندوں نے اپنے حملوں کا دائرہ کار صوبہ سرحد سے بڑھا کر اسلام آباد اور پنجاب کے بڑوں شہروں تک بڑھا دیا۔
<link type="page"><caption> جنوبی پنجاب میں دہشت گردی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/radio/2010/01/100105_south_punjab_militants_audio.shtml" platform="highweb"/></link>
طالبان شدت پسندوں نے راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد کے ہوائی اڈے، لاہور کے بھرے بازار اور ملتان میں انٹیلی جنس اداروں کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا۔
فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر بعض سینیئر فوجی افسران کو گولیاں مار کر قتل کرنے اور متعدد اہلکاروں کو چوبیس گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھنے کے واقعے نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ان حملوں میں پنجابی طالبان کا نام سرِ فہرست آیا اور حکام نے شبہہ ظاہر کیا کہ زیادہ تر پنجابی طالبان کا تعلق جنوبی پنجاب یا سرائیکی پٹی سے ہے۔ بعض حلقوں نے شدت پسندی میں بعض مدارس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔
صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک سرائیکی دانشور محمود نظامی کہتے ہیں کہ مدارس دو طرح کے ہیں۔ ایک تو جنرل ضیاء کے زمانے سے پہلے کے ہیں، جن میں سے تو شاید ایک آدھ ہی ہوگا جو دہشت گردی کی تربیت یا جوانوں کو اکساتا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ضیاء کے دور میں جب زکوٰۃ عشر فنڈ چلا تو بے شمار مدرسے مشروم کی طرح اُگ گئے۔۔زکوٰۃ خوری کے چکر میں اور ان میں سے بھی اکثر یہ کام نہیں کرتے ۔لیکن کچھ مدرسے ضرور ایسے ہیں جو ضیاء کے بعد کی پیداوار ہیں اور وہ شدت پسندی میں ملوث ہیں۔‘
محمود نظامی کہتے ہیں کہ شدت پسند گروہوں کے تمام استاد تو ہیں غیر سرائیکی،یعنی ان کا پنجاب، سرحد یا قبائلی علاقوں فاٹا سے تعلق ہو سکتا ہے۔’ہاں البتہ خام مال جو ہے، وہ سرائیکی علاقوں سے ضرور جاتا ہے جوکہ بوجہ غربت بھی ہے اور پسماندگی بھی ہے۔ کمانڈر جو ہم سنتے ہیں وہ مرکزی پنجاب کے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا کہ مولانا مسعود اظہر بہاولپور کے ہیں کیا وہ انہیں کمانڈر نہیں مانتے تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ بات درست ہے اور ایک آدھ اور بھی ہو سکتے ہیں جس کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
محمود نظامی سمیت بعض دیگر سرائیکی دانشور کہتے ہیں کہ کالعدم لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، حزب اسلامی، حرکت المجاہدین جنوبی پنجاب میں گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرم رہی ہیں۔ ان کا نیٹ ورک تو موجود ہے لیکن ماضی کی طرح اب ان کے دفاتر ہیں اور نہ ہی وہ کھلے عام چندہ کرتے ہیں۔
مدارس کے شدت پسندی میں ملوث ہونے کے تاثر کو اتحادِ تنظیمات المدارس کے سرکردہ رہنما قاری محمد حنیف جالندھری رد کرتے ہیں۔ ’مدارس کا اس انتہا پسندی اور تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان مدارس کی وجہ سے کوئی انتہا پسندی یا تشدد ہوتا ہے تو آج سے تیس چالیس پچاس سال پہلے بھی ہوتی۔ یہ شدت پسندی جو آئی ہے اس کا دورانیہ پندرہ سے بیس سال پر محیط ہے۔اس کے اسباب کچھ اور ہیں ۔۔ان اسباب کی طرف غور کرنا چاہیے۔‘
جب انہیں ملتان میں آئی ایس آئی کے دفتر، لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملوں سمیت بعض واقعات میں ملوث افراد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہونے کا ذکر کیا تو قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ ’کسی بھی علاقے کا اگر کوئی رہنے والا کوئی فرد ہو اور وہ کسی بھی ایسی کارروائی میں ملوث ہو جو غیر قانونی ہو تو اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پورا علاقہ اس طرح کا ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس پورے علاقے کے لوگ ایسے ہیں۔‘
’کئی مثالیں ایسی ہونگیں کہ ان افراد کا تعلق کراچی سے ہوگا۔ان کا تعلق پشاور سے ہوگا،ان کا تعلق لاہور سے ہوگا تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تمام علاقہ اور تمام لوگ ایسے ہیں۔۔۔یہ افراد کی بات ہو سکتی ہے یہ علاقوں کی بات نہیں ہے اور اس طرح کے افراد پورے ملک میں ہیں۔‘
پنجاب کے دو اضلاع بھکر اور ڈیرہ غازی خان صوبہ سرحد کے ساتھ ملحقہ ہیں اور اس وجہ سے انہیں ’گیٹ وے‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ ہفتے قبل ڈیرہ غازی خان سے القاعدہ سے تعلق کے شبہہ میں بعض غیر ملکیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
عام لوگوں کو خدشہ ہے کہ صوبہ سرحد سے شدت پسندی بھکر اور ڈیرہ غازی خان سے جنوبی پنجاب میں پھیل سکتی ہے۔ لیکن پولیس حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سلسلے میں مناسب اقدامات کر رکھے ہیں۔

ان کے مطابق بعض مدارس پر انہوں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر رضوان کہتے ہیں کہ’ کالعدم تنظیموں کاگڑھ وسطی پنجاب ہے۔ہمارے ڈیرہ غازی خان میں ایسے لوگ کچھ تھے جنہیں اب گرفتار کیا گیا ہے۔ یہاں تقریباً سولہ مدارس ایسے ہیں جنہیں اب بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔۔۔سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے میں جو لوگ ملوث تھے آج پولیس سب کو جانتی اور ان میں ماسوائے ایک نو جوان زبیر کے کسی ایک کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے نہیں ہے۔‘
جنوبی پنجاب میں شدت پسندی پھیلنے کے امکان کو مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی بھی رد کرتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کی بات حکومتی سطح سے ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’اس وقت صورتحال بنائی جا رہی ہے نا تو یہاں کوئی تربیتی کیمپ ہے نا یہاں کوئی دہشت گرد ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وجہ اصل میں یہ ہے کہ ہم نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی ہے تو یہ ایک پروپیگینڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ یہاں دہشت گردی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی باہر کے ممالک کوئی یورپی ملک سرائیکی صوبے کی حمایت نہ کرے اور یہ سازش ہے۔۔۔اس میں تخت لاہور اور پنجاب حکومت کی زیادہ شفقت ہے کیونکہ انہیں تکلیف ہے کہ یہ لوگ حقوق مانگ رہے ہیں۔‘
سرائیکی قومپرست رہنما تاج محمد لانگاہ کی رائے بھی جمشید دستی سے مختلف نہیں۔’یہ جو ایک دم جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کی بات شروع ہوئی ہے، اس کی اصل وجہ سرائیکی صوبے کے لیے پچھلے چھ آٹھ مہینے سے چلنے والی تحریک ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صدر زرداری خود سرائیکی بولنے والا ہے، اس کے والد سو سے زیادہ بیان دے چکا ہے سرائیکی صوبے کے حق میں تو جب سے یہ بات آئی ہے اور سرائیکی مخالف لوگوں کو یہ پتا ہے کہ بنیادی طور پر یہ حکومت سرائیکیوں کی حامی ہے۔تو اس ہماری جمہوری پر امن تحریک کو دبانے کے لیے یہ شوشا چھوڑا گیا ہے کہ یہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے یہاں فوجی آپریشن ہونا چائیے اس کے پیچھے پنجاب کی حکومت ہے۔‘
جنوبی پنجاب میں طالبان اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک سرائیکی شاعر عزیز شاہد کہتے ہیں کہ جتنا میڈیا میں اس بارے میں شور اٹھا صورتحال اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوفی شعراء اور اولیاء کرام نے مذہبی انتہا پسندی اور ملائیت کی ابتداء سے ہی حوصلہ شکنی کی ہے۔

ان کے مطابق ملا اور صوفی کا جھگڑا صدیوں پرانا ہے اور اب ذرا ملاؤں نے بندق اٹھالی ہے۔۔لیکن جیت پھر بھی خواجہ فرید اور بلھے شاہ کے ماننے والوں کی ہوگی۔۔ جو پیار اور امن کے سفیر ہیں۔
جنوبی پنجاب کے جن چھ اضلاع میں گھومنے اور وہاں کے مختلف لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا، اس سے اس امر کی نشاندہی ہوئی کہ انفرادی طور پر نوجوان غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے شدت پسندوں کے ہتھے لگ جاتے ہیں۔
شدت پسندوں کو نوجوانوں کی بھرتی میں کچھ مدارس تعاون اور سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ پنجابی طالبان کے نام سے سامنے آنے والے گروہ میں لشکر جھنگوی اور جیش محمد کا کافی عمل دخل ہے جبکہ دیگر کالعدم جہادی تنظیموں کے بعض لوگ انفرادی طور پر اس کا حصہ ہیں۔
پولیس حکام بھی مانتے ہیں کہ پنجابی طالبان کا القاعدہ اور پاکستانی طالبان سے تعلق ضرور ہے اور ان کا کنٹرول اور کمانڈ، افغانستان، صوبہ سرحد اور وسطی پنجاب میں ہوسکتا ہے، نہ کہ جنوبی پنجاب میں۔
اگلی قسط میں آپ تفصیل سے پڑھ پائیں گے کہ مدارس کا شدت پسندی میں کس حد تک کردار ہے۔۔ مدارس کو پیسے کہاں سے ملتے ہیں۔۔ کون سے مسلک کے مدارس کی سرپرستی کون کرتا ہے۔۔۔ نواز شریف سے لے کر مولانا فضل الرحمٰن تک کون کس کا سرپرست ہے۔۔؟



















