منتخب اسمبلیاں میرا سیاسی ہتھیار ہیں: زرداری

صدر زرداری گزشتہ ایک ہفتے سے کم از کم تین مواقع پر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے
،تصویر کا کیپشنصدر زرداری گزشتہ ایک ہفتے سے کم از کم تین مواقع پر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’عوام کی ووٹوں سے منتخب اسمبلیاں میرا سیاسی ہتھیار ہے اور میرے خلاف ہونے والی سازشوں کو میں اپنے سیاسی ہتھیار سے ہی ناکام بناؤں گا‘۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہم سیاسی لوگ ہیں اور تمام مسائل کو سیاسی انداز میں حل کریں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور پارلیمان کے دونوں ایوان اور صوبائی اسمبلیاں ہی عوامی طاقت کے حقیقی فورم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ عوامی ایوانوں سے آئین کے مطابق ایک منتخب صدر ہیں اور انہیں غیر آئینی طریقے سے ہٹانے کی بعض حلقے کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ’بعض حلقوں‘ کی کوئی تشریح نہیں کی۔

انہوں نے یہ بات اس وقت کہی ہے جب بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے پیر کو ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرنے کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔ واضح رہے کہ صدر پر بھرپور اعتماد کے اظہار کی ایک ایسی ہی قرارداد سندھ کی صوبائی اسمبلی بھی منظور کر چکی ہے۔

صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد صوبہ سرحد کی اسمبلی بھی صدر پر اعتماد کی قرارداد منظور کرے گی اور ان کی کوشش ہوگی کہ ایسی ہی قرارداد پنجاب اسمبلی اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے بھی منظور کرائی جائے۔ یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا پہلے ہی علیحدہ علیحدہ اجلاس گیارہ جنوری کو طلب کر چکے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں صوبہ بلوچستان کے شہر حب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بلوچستان کی عوام کے لیے منظور کردہ ’آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج‘ دینے پر ہٹانے کی سازش ہور رہی ہے۔

صدر آصف علی زرداری گزشتہ ایک ہفتے سے کم از کم تین مواقع پر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ’جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے، وہ لوگ میرے خلاف سازش کر رہے ہیں، مجھے لڑنا آتا ہے اور میں تمام سازشوں کو ناکام بناؤں گا۔‘

صدر کی جانب سے ’وہ لوگ‘ کے بار بار تذکرے کو بیشتر سیاسی مبصرین فوج یا سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ لیکن صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ ’وہ لوگ‘ سے صدر کی مراد بھٹو مخالف قوتیں ہیں۔