فوجی بیرک پر خودکش حملہ، چار ہلاک

دھماکے کے بعد فوجی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیر لیا
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد فوجی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیر لیا
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدھ کے روز فوجی بیرک پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے کے نتیجے میں کم از کم چار فوجی اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔

یہ حملہ جنوبی ضلع سدھنوتی کے علاقے تراڑ کھل میں میں پیش آیا۔

سدھنوتی کے قائم مقام ڈپٹی کشمنر محمد فرید چوہدری نے اس حملے کو خود کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک خود کش حملہ آور فوجی بیرکوں کے رہائشی حصے میں داخل ہوا، پہلے اس نے دستی بم پھنکا اور بعد میں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ بدھ کی صبح اس وقت کیا گیا جب فوجی ٹریننگ سکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ ٹریننگ سکول ان ہی بیرکوں کے ایک حصے میں واقع ہے۔

محمد فرید چوہدری نے کہا کہ موقع سے ایک خود کش جیکٹ کے چیھتڑے، ایک دستم بم کا خول اور مبینہ خود کش حملہ آور کی دو ٹانگیں ملی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا سر نہیں ملا جس کی وجہ سے اس کی شناخت ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ ان فوجی بیرکوں کے ایک طرف جنگل ہے اور اس کے باہر آبادی ہے اور بظاہر حملہ آور جنگل کے راستے سے ہی وہاں پہنچا۔‘

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جا رہی ہے کہ حملہ آور کون تھا، اس کا تعلق کہاں سے تھا اور وہ یہاں کیسے پہنچا۔

تراڑ کھل کے اسسٹنٹ کمشنر محمد اشرف خان نے بی بی سی اردو لائن کو بتایا کہ خودکش حملے میں تین فوجی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زخمی فوجی نے راولا کوٹ میں واقع کمبائینڈ ملٹری ہسپتال میں دم توڑا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر زخمیوں کو راولپنڈی میں واقع کمبائینڈ ملٹری ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ کچھ راولاکوٹ میں ہی زیر علاج ہیں۔

پاکستان کی فوج کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی یہ خود کش حملہ تھا اور یہ کہ حملہ آور ایک ہی تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ میں چار فوجی ہلاک جبکہ گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی سال چھبیس جون کو مظفرآباد شہر کے علاقے شوکت لائن میں فوجیوں کی رہائشی عمارت کے احاطے میں ایک خود کش حملہ آور نے فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔

حکام نے اس حملہ آور کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کا تعلق وزیرستان سے تھا اور تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

فوج پر ہونے والے ان دو حملوں سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چھ ماہ سے کچھ ہی زیادہ عرصے میں اس نوعیت کے چار واقعات پیش آئے ہیں۔

اکیس نومبر کو تین خود کش حملہ آوروں نے مظفرآباد کے نواح میں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جب پولیس ان کا تعاقب کر رہی تھی۔ پولیس نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ حملہ آور حلیے اور زبان سے غیر کشمیری معلوم ہوتے تھے۔

اٹھائیس دسمبر کو مظفرآباد میں امام بارگاہ پر ایک خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

بدھ کو ہونے والا خود کش حملہ پہلا ایسا حملہ ہے جو مظفرآباد سے باہر ہوا ہے۔