کمال محسود انتقال کر گئے

کمال محسود
،تصویر کا کیپشنکمال محسود ان فنکاروں میں شامل ہیں جنہیں شدت پسندوں نے اپنا فن چھوڑنے کے لیے کہا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جان سے ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتو کے معروف گلوکار کمال محسود اسلام آباد میں کمرے میں قدرتی گیس بھر جانے کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

کمال محسود وزیرستان آرٹس کونسل کے بانی صدر اور پشتو، اردو اور سرائیکی کے معروف اداکار تھے۔ انھیں جعمرات کو اسلام آباد کے ایک قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

مرحوم کا تعلق جنوبی وزیرستان کے کڑمہ علاقے سے تھا

ان کے رشتہ داروں کے بقول تین روز قبل ان کے کمرے میں گیس بھر جانے سے دھماکا ہوا جس میں وہ بری طرح سے زخمی ہوگئے تھے اور جھلس گئے تھے۔ تین دن تک ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش بالآخر جمعرات کو وہ ہار گئے۔

کمال محسود ان فنکاروں میں شامل ہیں جنہیں شدت پسندوں نے اپنا فن چھوڑنے کے لیے کہا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جان سے ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہیں دھمکیوں کی وجہ سے وہ اپنا آبائی علاقہ دو ہزار پانچ سے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے اسلام آباد میں مقیم تھے اور انہیں حکومت نے سکیورٹی بھی مہیا کی تھی۔

کمال محسود کے گائے ہوئے گیت ماندتے گل دئی ، میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں خوبانی کے پھول کھل گئے ہیں ، بادام بھی پک چکےہیں ایسے میں دل اپنے علاقےکی طرف اڑنے کو کرتا ہے ۔

کمال کے دوسرے مقبول گیتوں میں ، ’تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم ، ہم تمہاری راہ دیکھیں گے صنم‘ اور ’یہ پتھر پتھر وزیرستان ہے‘، جیسے لوک گیت شامل ہیں ۔

کمال محسود نے بی بی سی کو گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں فون پر بتایا تھا کہ اسلام آباد میں بھی ان کی زندگی خطرے میں تھی اور ایک دوست کےمشورے پر انہوں نے تبلیغی جماعت کی ایک مسجد میں پناہ لے رکھی تھی۔ انہوں نے اسلام آباد کے ایس پی انویسٹیگیشن کو تحفظ کی درخواست دی تھی اور وہ خط بھی ان کے حوالے کر دیا تھا جو بظاہر کالعدم تحریکِ طالبان نے موت کی دھمکی کے ساتھ ان کے نام لکھا تھا۔

کمال محسود پشتو لوک موسیقی میں ایک معتبر نام ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں یکساں مقبول ہیں اور انہوں نے سرائیکی اور اردو میں بھی کئی یادگار نغمے گائے ہیں۔ ان کی زندگی پر کئی بین الاقوامی چینلز اور اخبارات نے خبریں دی تھی۔

کمال محسود کو دھمکیوں کا سلسلہ اسلام آباد میں بھی جاری رہا۔ انہوں نے بتایا تھا وہ اپنی اہلیہ کو اسلام آباد کے ایک ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ اس کے بعد ایک سٹور سے دوائی لینے گئے۔ واپسی پر ان کی گاڑی کےوائپر کے نیچے ایک خط پڑا ملا جو بظاہر تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تھا۔

کمال محسود کا کہنا ہے ایک صفحے کے خط کی ابتدا الجہاد اور اللہ اکبر کےنعروں سے ہوتی تھی۔ بعد میں کمال محسود کا ولدیت سمیت نام لکھ کر کہا گیا تھا کہ انہوں نے موسیقی جیسے غیر شرعی کام کو نہیں چھوڑا ہے اور مغربی میڈیا میں طالبان کے خلاف انٹرویوز دیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سزا موت ہے۔ کمال کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں کیونکہ طالبان اسلام آباد میں بھی ان کے بہت قریب ہیں۔

کمال محسود نے پاکستانی فوج کے لیے امن کے گیت بھی گائے تھے جس کی آڈیو کیسٹیں وزیرستان کے لوگوں میں مفت تقسیم کی گئی تھیں۔ کمال کے مطابق پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے ان کو بتایا تھا کہ ان کی کیسٹس اور سی ڈیز میں ان کی تصویر شامل نہیں کی جائیگی مگر کمال کے مطابق ان کی آواز ہی ان کی تصویر بنی اورطالبان ان کےخلاف ہوگئے ۔

انہوں نے جنگ آزادی کے اہم رہنما فقیر آف ایپی سے متعلق ایک دستاویزی فلم میں مرکزی کردار بھی ادا کیا تھا۔ وہ بیرون ملک بھی کئی دورے کرچکے تھے تاہم کئی دیگر فنکاروں کی طرح انہوں نے ملک چھوڑنے کی کوشش نہیں کی۔

مرحوم کا تعلق جنوبی وزیرستان کے کڑمہ علاقے سے تھا۔ ان کے ایک بیٹے نے اب باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گائیکی اپنائی ہے۔