’فضل اللہ کبھی نہیں مانیں گے‘

فضل اللہ کی والدہ آمنہ بی بی اور ان کی بھتیجی
،تصویر کا کیپشن’چار مہینے سے فوجیوں کے ساتھ ہوں وہ میرے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہے ہیں‘
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

سوات میں طالبان رہنما مولانا فضل اللہ کی والدہ آمنہ بی بی حوزہ خیلہ میں ایک اسلامی مدرسے میں مقیم ہیں جس کو اب فوجیوں نے ایک فوجی ٹھکانے میں تبدیل کر دیا ہے۔

عمر رسیدہ آمنہ بی بی ایک جائے نماز پر بیٹھی حیرانگی سے صحافیوں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ان کے پہلو میں ان کی ایک کم سن بھتیجی بھی بیٹی ہوئی تھی۔ان کی باتوں سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ شاید ان کو یہ علم نہیں ہے کہ ان کا بیٹا مولانا فضل اللہ حکومت کو کتنا مطلوب اور میڈیا کے لیے کتنا اہم ہے۔ آمنہ بی بی نے صحافیوں سے بڑی سادگی سے دل کی باتیں کیں۔

’ہاں میں فصل اللہ کی ماں ہوں، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے، تین سال ہوگئے کہ وہ ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔میں بے بس ہوں، بیمار ہوں مجھے مالم جبہ سے ایک چارپائی پر لٹا کر پہلے لونئی اور بعد میں ایک جہاز کے ذریعے یہاں لایا گیا۔میں اب بھی بیمار ہوں لیکن فوج میرا علاج کروا رہی ہے۔‘

آمنہ بی بی نے کہا کہ مولانا فضل اللہ نے ان کی نظروں کے سامنے کوئی غلط کام نہیں کیا، نہ انہوں نے کسی سکول کو تباہ کیا اور نہ ہی کسی کو قتل کیا ہے۔ تین سال ہوگئے کہ وہ گھر سے چلے گئے تھے، گھر سے چلے جانے کے بعد ان کو ان کے بُرے یا اچھے کاموں کا کوئی علم نہیں ہے۔ ’میں نہیں جانتی کہ دُنیا ان کے پیھچے کیوں پڑی ہے۔‘

’مجھے کچھ نہیں معلوم لیکن جب سے میں یہاں قید ہوں میں سُن رہی ہوں کہ مولانا فضل اللہ نے یہ غلط کام کیے وہ غلط کام کیے۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ طالبان نے ظُلم کیے ہیں اور فوجیوں نے بھی ظُلم کیے ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ فضل اللہ کہاں ہے اور کس حالت میں ہے۔ میں بیمار ہوں بے بس ہوں، چارپائی پر پڑی ہوئی ہوں، کچھ نہیں جانتی۔‘

مولانا فضل اللہ
،تصویر کا کیپشنمولانا فضل اللہ کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے

انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل اللہ رمضان کے مہینے میں صرف ایک دن گھر آئے تھے۔ ’انہوں نے اسلام علیکم کہا میں نے اس کا جواب دیا، اس کے علاوہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ٹھہرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صبح آئیں گے لیکن اس کے بعد سے میں نے ان کو نہیں دیکھا۔‘

’چار مہینے ہوگئے میں فوجیوں کے ساتھ ہوں۔ فوجی میرے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھتے ہیں۔ الپوری کے ایک ہسپتال میں میرا علاج بھی کروایا۔ میں اب بھی بیمار ہوں اور دوائیاں کھا رہی ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں بے بس ہوں مولانا فضل اللہ پر میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ مولانا فضل اللہ اسلام اور شریعت چاہتے ہیں اگر پوری دُنیا بھی ان کو روکناچاہے تو وہ نہیں مانیں گے۔ وہ اکیلے نہیں ہیں ان کے ساتھ طالبان ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کا مولانا فضل اللہ کے علاوہ بھی ایک بیٹا ہے جو سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہے۔

بوڑھی آمنہ بی بی فوجیوں کی تحویل میں ایک معزز قیدی کی زندگی گُزار رہی ہیں۔اگرچہ مولانا فضل اللہ دُنیا کی نظروں میں ایک دہشت گرد اور مجرم ہیں لیکن آمنہ بی بی کے لیے وہ صرف ان کے بیٹے ہیں اور کچھ نہیں۔