کراچی میں ٹارگٹ کِلنگ جاری

- مصنف, نثار کھوکھر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کو بھی ٹارگٹ کلنگ یا ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات جاری رہے اور شہر کے مختلف علاقوں سے پانچ لاشیں ملی ہیں۔
دریں اثناء برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اتوار کو ہی پہلی مرتبہ کراچی پہنچے ہیں اور انہوں نے شہرمیں قتل کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
شہر میں محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے بعد انہوں نے میڈیا کوبتایا ہے کہ وہ متحدہ سے وابستہ گورنر سندھ اور ملک کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے حکومت سندھ سے کراچی میں بلوچ عوام کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔اور کراچی میں بلوچ تنظیموں نے شہر میں اپنے تحفظ کے لیے احتجاج کیا ہے۔
ایدھی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اتوار کو شہر کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کی گولیاں لگی لاشیں ملی ہیں۔جن علاقوں سے ایدھی رضاکاروں کو یہ لاشیں ملی ہیں ان میں قائد آباد، خاموش کالونی، پرانہ حاجی کیمپ اور تھانہ عیدگاہ کے علاقے شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہلاکتوں کے بعد شہرمیں گزشتہ چار دنوں کےدوران ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکتیس ہوگئی ہے۔
متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ اتوار کو ہلاک ہونے والوں میں سے تین افراد ان کی جماعت کے کارکن اور ہمدرد ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو لیاری امن کمیٹی سے اپنے تعلق کو واضع کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق لیاری میں پیپلز امن کمیٹی میں جرائم پیشہ افراد شامل ہیں جن کو حکومت سندھ کے بعض عناصر کی سرپرستی حاصل ہے تاکہ وہ اردو بولنے والوں کو قتل کرسکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی اور متحدہ کا ایک مشترکہ اجلاس گورنر ہاؤس میں آج طلب کیا گیا ہے مگر اجلاس سے پہلے برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کراچی پہنچے ہیں۔
انہوں نے جناح کی مزار پر میڈیا سے مختصر گفتگو میں کراچی میں کشیدگی پر افسوس کا اظہار کیا اور اس پر جلد قابو پانے کی امید ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ شہر میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے کراچی میں بلوچ عوام کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں بلوچوں کو تحفظ دیا جائے۔جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے کارکنان نے کراچی پریس کلب کے سامنے کراچی میں بلوچوں کے قتل کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
جمہوری وطن پارٹی کے رہنماء رؤف ساسولی کے مطابق بلوچوں کو نشانہ بناکر قتل کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر کراچی کو اسلحے سے پاک کیا جائے۔
کراچی میں ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات کے بعد تمام جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں اور دونوں اتحادی جماعتوں کا ایک ساتھ چلنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔بعض مبصرین کے مطابق دونوں جماعتیں نئے وعدوں معاہدوں کے بعد ہی اپنے اتحاد کو برقرار رکھ سکیں گی۔



















