نصرت بھٹو کے کیس پھر شروع

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹو کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں دائر ریفرنس پر دوبارہ کارروائی شروع کردی ہے۔
ریفرنس کی سماعت کے سلسلہ میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر اور دیگر وکیلوں نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ نصرت بھٹو بیرون ملک ہیں اور شدید علیل ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتیں۔
عدالت نے وکلا کا موقف سننے کے بعد انہیں ہدایت کی کہ نصرت بھٹو کی بیماری کے بارے میڈیکل سرٹیفکیٹ بارہ فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
نصرت بھٹو کے خلاف یہ ریفرنس قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سنہ انیس ستانوے میں دائر کیا تھا جس میں بیگم نصرت بھٹو پر برطانیہ، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز (سو ارب روپے سے زیادہ) کے غیر قانونی اثاثے قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس ریفرنس کو قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کے تحت ختم کردیا تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس پر اب دوبارہ کارروائی کی جارہی ہے۔
نصرت بھٹو اس ریفرنس کی سماعت کے سلسلہ میں کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں اور عدالت نے انہیں دانستہ روپوشی کے الزام میں انہیں اٹھارہ نومبر سنہ دو ہزار کو دو سال قید اور جائیداد کی ضبطی کی سزا سنائی تھی جبکہ ریفرنس داخل دفتر کردیا تھا۔
این آر او کے اجرا کے بعد دوسال قبل بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے وکیل میاں جہانگیر مرحوم نے اس ریفرنس کو ختم کرنے کی درخواست دی تھی جس پر پانچ سال کے بعد اس ریفرنس پر دوبارہ کارروائی ہوئی تھی۔
احتساب عدالت نے میاں جہانگیر ایڈووکیٹ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نصرت بھٹو کے خلاف دائر ریفرنس کو ختم کر دیا۔
خیال رہے کہ اس ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے روبرو سابق وزیر قانون اور چئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک نے نصرت بھٹو کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں یہ انکشاف کیا تھا کہ نصرت بھٹو اپنی یادداشت کھو چکی ہیں اور وہ دماغی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















