حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں بچ گئے

وزیرستان میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے
،تصویر کا کیپشنوزیرستان میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ڈرون طیارے کے میزائل حملے میں دس شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹیکل حکام کے مطابق یہ حملہ شکتوئی کے علاقے میں کیا گیا۔

دریں اثنا تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا کہ ڈرون حملے میں ان کا کوئی بھی ساتھی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

پولیٹیکل حکام کے مطابق حملے کے دوران ڈرون طیاروں نے چار میزائل فائر کیے جس سے یعقوب نامی شخص کا گھر اور اس سے ملحقہ مدرسہ تباہ ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان مقامی طالبان ہیں۔

طالبان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا کہ ڈرون حملے میں ان کا کوئی بھی ساتھی ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ایک سوال کہ میڈیا میں طالبان سربراہ حکیم اللہ محسود کے بھی حملے میں ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’حکیم اللہ محسود بالکل زندہ سلامت ہیں اور انہوں نے آدھ گھنٹہ پہلے ہی ان سے بات کی ہے‘۔

دوسری طرف ڈرون حملے کے مقام کے بارے میں ابھی تک متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حملہ جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں ہوا ہے جبکہ طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈرون طیاروں نے شمالی وزیرستان کے گُڑیوم میں غُوٹ غولئی کے علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل خوست میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مرکز پر خودکش حملے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔ان میں سے زیادہ ڈرون حملے سراج الدین حقانی کے زیر اثر علاقوں پر کیے گئے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک پر امریکہ کا الزام ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث ہے۔