زرداری پنجاب کے ’طویل‘ دورے پر

آصف زرداری
،تصویر کا کیپشنصدر کے استقبال کے لیے مسلم لیگ نون کا کوئی بھی سینیئر رہنما موجود نہیں تھا
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

صدر مملکت آصف علی زرداری پنجاب کے ایک طویل سیاسی اور سرکاری دورے پر لاہور پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اپنی پارٹی عہدیداروں سے مشاورتی ملاقاتوں کا آغاز کردیا ہے۔

بدھ کی رات گورنر ہاؤس میں انہوں نے ایک ڈنر پر پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت سےغیر رسمی ملاقات کی جبکہ ان کی ایک اہم ملاقات ان پارٹی کارکنوں سے ہے جنہوں نے ضیاء اور مشرف کے فوجی ادوار میں جیلیں کاٹیں،کوڑے کھائے اور دیگر صعوبتیں برداشت کیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا کہنا ہے کہ لاہورآمد سے پہلے ہی صدر مملکت نے اس ملاقات کا اہتمام کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔

صدر مملکت کےدورے کی باقاعدہ تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں لیکن کہا جارہا ہے کہ ان کے صدر بننے کے بعد یہ ان کا پنجاب کا طویل ترین دورہ ہوگا جو ایک ہفتے تک کے قیام تک محیط ہوسکتا ہے۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سنئیر وزیر راجہ ریاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر دورےکے دوران پیپلز پارٹی کی ہر سطح کی لیڈر شپ کارکنوں، مزدور رہنماؤں، کاروباری تاجر طبقے سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کریں گے۔اس کے علاوہ وہ بجلی بنانے کے ایک ڈیم اور پاکپتن میں پل کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ صدر کا یہ دورہ سرکاری بھی اور سیاسی بھی ہے۔

صدر آصف زرداری اس سے پہلے سندھ اور بلوچستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے پنجاب کے دورے کا بنیادی مقصد بظاہر صوبے میں پارٹی کو متحرک کرنا، بلدیاتی انتخابات اور آنے والے کسی بھی ممکنہ کڑے وقت کے لیے اسے تیار کرنا ہے۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہے لیکن گذشتہ چند روز سے دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے بیانات کی وجہ سے تعلقات میں کسی حد تک سرد مہری پائی جا رہی ہے۔

تعلقات کی اسی نزاکت کی وجہ سے یہ سیاسی حلقوں میں یہ بات خاص طور پر محسوس کی گئی کہ صدر مملکت کے استقبال کے لیے ایک صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع کے سوا مسلم لیگ نون کا کوئی بھی سینیئر لیڈر ایئر پورٹ موجود نہیں تھا۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ترکی کے اور نواز شریف چین کےدورے پر ہیں۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ ان کے بیرون ملک دورے کا شیڈول پہلے سے طے تھا اور اگر صدر زرداری کو ان سے ملنے کی اتنی ہی خواہش تھی تو وہ اپنا دورہ چند روز کے لیے مؤخر بھی کرسکتے تھے۔

صدر مملکت کے پنجاب کے دورے کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا پنجاب اسمبلی بھی باقی تین صوبوں کی اسمبلیوں کی طرح ان کے حق میں قرار داد منظور کرے گی۔

پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔

سنئیر وزیر راجہ ریاض نے بدھ کی رات گورنر ہاؤس میں صدر مملکت سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگرچہ صدر آصف زرداری کو ایسی کسی قرارداد کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی وطن واپسی پر وہ ان سے متفقہ قرار داد لانے پر بات کریں گے۔