شکتوئی ایک بار پھر نشانہ، پندرہ ہلاک

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ڈرون طیاروں کے میزائل حملے میں پندرہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے شکتوئی میں کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو ڈرون طیاروں نے چار میزائل فائر کیے جنہوں نے ایک مقامی شخص گل پیر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔حکام کے مطابق حملے میں مکان بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بھی اطلاع ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود شکتوئی کے کسی علاقے میں موجود تھے لیکن اب یہ معلوم نہیں کہ میزائل حملے میں کس کو نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ گل پیر نامی شخص کے طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ شکتوئی کے علاقے میں گزشتہ دو دن میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ اس سے قبل چودہ جنوری کو بھی امریکی ڈرونز نے اسی علاقے میں ایک گھر اور مدرسے کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔
تاہم بعدازاں حکیم اللہ نے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں اپنی ہلاکت یا زخمی ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کی۔ سنیچر کو جاری کیے جانے والے اس پیغام میں انہوں نے بی بی سی اردو کے جمعے کی خبروں اور تجزیوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے وہ پروگرام سنا اور یہ کہ وہ زندہ اور صحت مند ہیں۔
خیال رہے کہ چند ہفتے قبل خوست میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مرکز پر خودکش حملے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔ان میں سے زیادہ ڈرون حملے سراج الدین حقانی کے زیر اثر علاقوں پر کیےگئے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک پر امریکہ کا الزام ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















